ایران کا میزائل پروگرام دفاعی مقاصد کے لیے ہے، کوئی ایسا معاملہ نہیں کہ جس پر مذاکرات کیے جائیں: ایرانی وزارتِ خارجہ

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایران کا میزائل پروگرام دفاع کے لیے تیار کیا گیا ہے، نہ کہ مذاکرات کے لیے۔

اسماعیل بقائی نے آج ایک پریس کانفرنس میں کہا ’ایران کی دفاعی صلاحیتیں، جو کسی بھی مخلاف کو ایران پر حملے کے خیال سے روکنے کے لیے تیار کی جا رہی ہیں ایسا معاملہ نہیں ہے کہ اس پر بات چیت کی جا سکے۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایک طرف جہاں ’اسرائیل کو بلا روک ٹوک اسلحہ فراہم کیا جا رہا ہے وہیں ایران کے میزائل پروگرام کو خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔‘

امریکی ٹی وی نیٹ ورک این بی سی نے دو دن قبل اپنی ایک رپورٹ میں لکھا تھا کہ ’اسرائیلی حکام کا ماننا ہے کہ ایران بیلسٹک میزائلوں کی پیداوار میں اضافہ کر رہا ہے اور اسی وجہ سے وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک منصوبہ پیش کرنے کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ ایران پر دوبارہ حملے کے ممکنہ آپشنز پر ان سے بات کی جا سکے۔‘

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اُن یورینیم افزودگی کی تنصیبات کی بحالی پر بھی تشویش رکھتا ہے جو امریکی حملوں کا نشانہ بنی تھیں، تاہم اس کی فوری توجہ ایران کے میزائل پروگرام اور فضائی دفاعی نظام کی بحالی پر مرکوز ہے، جو 12 روزہ جنگ کے دوران تقریباً ناکارہ ہو گیا تھا۔

تاہم گزشتہ روز ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ماسکو کے دورے اور آر ٹی نیٹ ورک کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’تہران نئے حملے کے امکان کو مسترد نہیں کرتا اور اس کے لیے ’مکمل طور پر تیار‘ ہے، حتیٰ کے ماضی سے بھی زیادہ تیار۔‘

عباس عراقچی نے زور دیا کہ ’ایران جنگ کا خیرمقدم تو نہیں کرتا، لیکن اس کے لیے مکمل طور پر تیار ہے کیونکہ جنگ کو روکنے کا بہترین طریقہ اس کے لیے تیار ہونا ہے۔‘

Related posts

پاکستان آج ون ڈے کرکٹ میں ہزارویں میچ کی تاریخ رقم کرے گا

مالدیپ 4 ملکی فٹبال ٹورنامنٹ کے لیے پاکستان کا 23 رکنی اسکواڈ کا اعلان

امریکا ایران کشیدگی: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پھر چڑھ گئیں