قرآن پر فیصلے ہمارے قانون میں نہیں، ایسا ہوتا تو جیلیں خالی ہوتیں: سپریم کورٹ

اسلام آباد | Kay News Urdu

سپریم کورٹ کے جسٹس ملک شہزاد نے جمعہ کو کیس کی سماعت کے دوران کہا کہ قرآن پر فیصلے ہمارے قانون میں نہیں ہیں، اگر ایسا ہوتا تو جیلیں خالی ہو جاتیں۔

مقدمہ کا خلاصہ

  • یہ سماعت مخالفین کے گھر اور جانور جلانے کے ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر ہوئی
  • چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی
  • جسٹس ملک شہزاد نے استفسار کیا کہ کیا واقعی گھر اور جانور جلائے گئے؟

پولیس اور وکیل کے دلائل

  • پولیس اہلکار نے بتایا کہ گھر اور جانور جلائے گئے، تاہم موقع سے گولیوں کے خول برآمد نہیں ہوئے
  • مدعی کے وکیل نے کہا کہ ملزم نے پلاٹ خریدنے کی نیت سے آگ لگائی، پلاٹ نہ بیچنے پر یہ واقعہ ہوا
  • ملزم نے جرگے میں قرآن پر حلف دیا کہ ہم نے کچھ نہیں کیا

عدالت کے ریمارکس

  • جسٹس ملک شہزاد نے کہا: "اگر فیصلے قرآن پر ہوتے، تو جیلیں خالی ہو جاتیں۔ قرآن پر فیصلے ہمارے قانون میں نہیں ہیں”
  • عدالت نے واضح کیا کہ پولیس کو شواہد اکٹھے کرنا ضروری ہیں
  • جسٹس نے مزید کہا: "اپنا گھر اور جانور خود کوئی نہیں جلاتا”

سپریم کورٹ نے ملزم کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔

Related posts

پاکستان آج ون ڈے کرکٹ میں ہزارویں میچ کی تاریخ رقم کرے گا

مالدیپ 4 ملکی فٹبال ٹورنامنٹ کے لیے پاکستان کا 23 رکنی اسکواڈ کا اعلان

امریکا ایران کشیدگی: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پھر چڑھ گئیں