دسمبر میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح کم ہو کر 5.6 فیصد رہ گئی

اسلام آباد:
پاکستان میں کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) کے مطابق دسمبر 2025 میں مہنگائی کی سالانہ شرح کم ہو کر 5.6 فیصد ہو گئی، جبکہ ماہانہ بنیاد پر قیمتوں میں کمی بھی ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (PBS) کی جانب سے جاری کیے گئے۔

اعداد و شمار کے مطابق نومبر میں مہنگائی کی شرح 6.1 فیصد تھی، جبکہ 2023 میں یہ شرح 30 فیصد سے زائد کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکی تھی۔ ماہرین کے مطابق حالیہ کمی ایک نمایاں بہتری کی علامت ہے۔

یہ ڈیٹا ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے گزشتہ ماہ اپنی کلیدی پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی کرتے ہوئے شرح سود 10.5 فیصد کر دی تھی، جو مارکیٹ کے لیے غیر متوقع فیصلہ تھا۔ رائٹرز کے سروے میں شامل تمام ماہرین نے شرح سود برقرار رہنے کی پیشگوئی کی تھی۔

خوراک کی قیمتوں میں نمایاں کمی

پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے مطابق دسمبر میں خوراک کی قیمتوں میں ماہانہ بنیاد پر 1.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی بڑی وجہ سبزیوں اور دیگر جلد خراب ہونے والی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کمی رہی۔
شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں خوراک کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔

آئندہ مہینوں کے خدشات

وزارت خزانہ نے بدھ کے روز بتایا تھا کہ دسمبر میں مہنگائی 5.5 سے 6.5 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے، جو اب سرکاری اعداد و شمار سے درست ثابت ہوئی۔

تاہم اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ کور انفلیشن اب بھی سخت (Sticky) ہے اور مالی سال کے اختتام (جون) کے قریب بیس ایفیکٹس کے باعث مہنگائی میں عارضی اضافہ ہو سکتا ہے۔

دسمبر میں غیر غذائی اشیاء کی مہنگائی شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں بلند رہی، جو قیمتوں کے بنیادی دباؤ کی نشاندہی کرتی ہے۔

دوسری جانب عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) نے پاکستان کے 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کے تحت قبل از وقت مانیٹری نرمی پر محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔

Related posts

پاکستان آج ون ڈے کرکٹ میں ہزارویں میچ کی تاریخ رقم کرے گا

مالدیپ 4 ملکی فٹبال ٹورنامنٹ کے لیے پاکستان کا 23 رکنی اسکواڈ کا اعلان

امریکا ایران کشیدگی: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پھر چڑھ گئیں