Uncategorized ’سندھ طاس معاہدے کی معطلی مودی کا پاکستان کو واضح پیغام ہے‘: بھارتی وزیر توانائی web editorجنوری 5, 202608 مشاهدات نئی دہلی / مقبوضہ کشمیر:بھارت کے وزیرِ توانائی منوہر لال نے کہا ہے کہ دریائے سندھ اور چناب پر پن بجلی منصوبوں سے متعلق پاکستان کا کوئی بھی اعتراض قابلِ قبول نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی پاکستان کے لیے ایک واضح پیغام ہے۔ اتوار کے روز انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے اضلاع کشتواڑ، رام بن اور ریاسی میں واقع سلال پن بجلی منصوبے کا جائزہ لیتے ہوئے منوہر لال نے کہا کہ ’’ہم ان دریاؤں کا پانی اپنے لوگوں کے فائدے کے لیے استعمال کریں گے، ہمارے لیے قومی مفاد سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں۔‘‘ بھارتی وزیر نے ہفتے اور اتوار کے دوران سلال، ساولاکوٹ، رتلے اور دیگر پن بجلی منصوبوں کا بھی معائنہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے ریاسی ضلع کے مہادیو محلے کے مندر میں آر ایس ایس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم نہیں چاہتے کہ کوئی ہمیں ہمارے کام سے روکے، اور اگر کوئی منفی ارادوں کے ساتھ ایسا کرے گا تو ہمارا عزم واضح ہو چکا ہے۔‘‘ منوہر لال نے دعویٰ کیا کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر ترقی کی نئی راہوں پر گامزن ہے اور خطے میں ہندوتوا نظریے کو فروغ ملا ہے۔ ان کے مطابق ’’ہندوتوا بلا لحاظ مذہب ہر اس شہری کو ساتھ لے کر چلتا ہے جو نیشن فرسٹ کی پالیسی پر یقین رکھتا ہو۔‘‘ واضح رہے کہ گزشتہ برس اپریل میں پہلگام حملے کے بعد بھارت نے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل کر دیا تھا۔ اس کے بعد ریاسی ضلع میں چناب دریا پر قائم سلال پن بجلی منصوبے کی توسیع کا کام دوبارہ شروع کیا گیا، جو اس سے قبل پاکستان کے اعتراضات کے باعث رکا ہوا تھا۔ بھارتی وزیر نے نیشنل ہائیڈل پاور کارپوریشن (NHPC) کے حکام کو ہدایت کی کہ سلال ڈیم کی صفائی اور توسیعی کام فوری مکمل کیے جائیں۔