Uncategorized برطانیہ کی وزیرِ خارجہ کا نیٹو پر آرکٹک پر توجہ بڑھانے کا مطالبہ، فن لینڈ اور ناروے کا دورہ web editorجنوری 14, 202604 مشاهدات Table of Contents برطانیہ کا ڈنمارک سے اظہارِ یکجہتیروس: آرکٹک کے لیے سب سے بڑا خطرہروسی سرگرمیاں اور ’شیڈو فلیٹ‘آرکٹک: نئی عالمی کشمکش کا مرکز لندن:برطانیہ کی وزیرِ خارجہ یویٹ کوپر بدھ کے روز فن لینڈ اور ناروے کا دورہ کریں گی، جہاں وہ نیٹو (NATO) پر زور دیں گی کہ وہ آرکٹک خطے میں اپنی سرگرمیاں تیز کرے تاکہ روس کی جانب سے لاحق خطرات کے خلاف علاقائی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ برطانوی وزارتِ خارجہ کے مطابق، یویٹ کوپر کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کے بیانات نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔ اسی تناظر میں ڈنمارک اور گرین لینڈ کے وزرائے خارجہ بدھ کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کریں گے۔ برطانیہ کا ڈنمارک سے اظہارِ یکجہتی برطانوی وزیراعظم کیر اسٹارمر پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ برطانیہ گرین لینڈ کے دفاع میں ڈنمارک کے ساتھ کھڑا ہے۔ یہ بیان آرکٹک میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے تناظر میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ روس: آرکٹک کے لیے سب سے بڑا خطرہ وزارتِ خارجہ کے جاری بیان میں روس کو آرکٹک سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ دورے کے دوران: فن لینڈ میں وزیرِ خارجہ نیٹو کی مشرقی سرحد پر تعینات بارڈر گارڈز سے ملاقات کریں گی ناروے میں میرینز کی لائیو فوجی مشقوں کا مشاہدہ کریں گی بیان کے مطابق، آرکٹک کا بلند شمالی خطہ، جس میں گرین لینڈ بھی شامل ہے، اہم بحری تجارتی راستوں اور زیرِ سمندر کیبلز جیسے حساس انفراسٹرکچر کا مرکز ہے، جو برطانیہ اور نیٹو کی سلامتی کے لیے نہایت اہم ہے۔ روسی سرگرمیاں اور ’شیڈو فلیٹ‘ برطانوی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ: "برطانیہ اور ناروے اس عزم میں شریک ہیں کہ روس اپنی غیر قانونی جنگی جارحیت میں کامیاب نہ ہو۔” بیان میں روس کی: فوجی سرگرمیوں زیرِ سمندر انفراسٹرکچر کے لیے خطرات اور نام نہاد ’شیڈو فلیٹ‘ کے استعمالکو خطے کے لیے بڑا چیلنج قرار دیا گیا۔ قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ ہفتے برطانیہ نے شمالی بحرِ اوقیانوس میں ایک روسی پرچم بردار آئل ٹینکر کو قبضے میں لینے کے امریکی آپریشن میں تعاون بھی کیا تھا۔ آرکٹک: نئی عالمی کشمکش کا مرکز وزیرِ خارجہ یویٹ کوپر نے کہا: "آرکٹک کی سلامتی برطانیہ اور نیٹو کے تحفظ کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ہمیں ان ریاستوں کے خلاف متحد ہونا ہوگا جو اس خطے میں مداخلت کرنا چاہتی ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے باعث: نئے بحری راستے کھل گئے ہیں قیمتی قدرتی وسائل سامنے آ رہے ہیں اور آرکٹک خطہ عالمی طاقتوں کے درمیان مقابلے کا نیا ہاٹ اسپاٹ بنتا جا رہا ہے