Uncategorized کچھ کمپنیاں ملک چھوڑ رہی ہیں، ٹیکس اور انرجی لاگت ایک حقیقت ہے: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب web editorجنوری 14, 202602 مشاهدات Table of Contents ٹیکس پالیسی میں بڑی تبدیلیزیادہ ڈیوٹیز معیشت کے لیے نقصان دہڈیجیٹل ادائیگیوں کا نیا نظامنجکاری اور سرکاری اداروں کا خسارہایسٹ ایشیا موومنٹ کی امید اسلام آباد:وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان میں کاروباری لاگت بڑھنے کے باعث کچھ کمپنیاں ملک سے منتقل ہو رہی ہیں اور اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ٹیکس اور توانائی کی قیمتیں زیادہ ہونا ایک سنجیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔ پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے کاروباری ماحول بہتر بنانے کے لیے مشکل فیصلے کیے جائیں۔ ٹیکس پالیسی میں بڑی تبدیلی محمد اورنگزیب نے کہا کہ ٹیکس پالیسی کو ایف بی آر سے نکال کر وزارت خزانہ کے دائرہ اختیار میں دے دیا گیا ہے جبکہ ایف بی آر کا اصل کام صرف ٹیکس محصولات جمع کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے ٹیکس نظام میں شفافیت اور پالیسی سازی میں بہتری آئے گی۔ انہوں نے بتایا کہ: گزشتہ سال 38 ارب ڈالر ترسیلات زر موصول ہوئیں رواں سال 41 ارب ڈالر ترسیلات زر آنے کی توقع ہے زیادہ ڈیوٹیز معیشت کے لیے نقصان دہ وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ: "ہم جتنی زیادہ ڈیوٹیز لگاتے جائیں گے، اتنا ہی معیشت کو نقصان ہوگا۔ ہمیں ڈیوٹیز کو معقول بنانا اور کاروباری لاگت کم کرنا ہوگی۔” ان کا کہنا تھا کہ ٹیرف سیکٹر میں بڑی اصلاحات متعارف کرائی جا چکی ہیں اور برآمدات پر مبنی معیشت کی طرف بڑھنے کے لیے ٹیرف کو ریشنلائز کرنا ناگزیر ہے۔ ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نیا نظام محمد اورنگزیب نے انکشاف کیا کہ: جون 2026 تک تمام حکومتی ادائیگیاں ڈیجیٹل چینلز پر منتقل کر دی جائیں گی غیر بینکنگ افراد کو بھی باضابطہ مالیاتی نظام میں شامل کیا جا رہا ہے نجکاری اور سرکاری اداروں کا خسارہ وزیر خزانہ کے مطابق: پی آئی اے کی نجکاری میں مقامی سرمایہ کاروں نے دلچسپی لی 24 سرکاری ادارے نجکاری کمیشن کے حوالے کیے جا چکے ہیں سرکاری اداروں میں ہر سال تقریباً 1000 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے انہوں نے بتایا کہ: یوٹیلیٹی اسٹورز پی ڈبلیو ڈی پاسکو جیسے اداروں کو بند کیا گیا کیونکہ یہاں دی جانے والی سبسڈی میں بڑے پیمانے پر کرپشن ہو رہی تھی۔ ایسٹ ایشیا موومنٹ کی امید وزیر خزانہ نے کہا کہ موجودہ معاشی اصلاحات: "پاکستان کے لیے ایسٹ ایشیا موومنٹ ثابت ہو سکتی ہیں۔” انہوں نے واضح کیا کہ قرضے خود بخود کم نہیں ہوئے بلکہ حکومت کے ٹھوس اقدامات کی وجہ سے معاشی استحکام کی طرف پیش رفت ہوئی ہے۔