ایران نے امریکی حملے کی صورت میں جوابی کارروائی کی دھمکی دے دی، امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ سے عملہ نکالنا شروع کر دیا

تہران / دوحا /واشنگٹن / دبئی

ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کا فیصلہ کیا تو خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا، جس کے بعد امریکہ نے احتیاطی تدابیر کے تحت مشرقِ وسطیٰ میں اپنے بعض فوجی اڈوں سے عملہ نکالنا شروع کر دیا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے پیشِ نظر مشرقِ وسطیٰ میں موجود چند اہم فوجی اڈوں سے عملے کی جزوی واپسی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ ایک امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ اقدام ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر احتیاطی بنیادوں پر کیا جا رہا ہے۔

امریکی حملہ قریب؟

ایک مغربی فوجی اہلکار نے کے نیوز کو بتایا کہ

“تمام اشارے یہی بتا رہے ہیں کہ امریکی حملہ قریب ہے، تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ٹرمپ انتظامیہ کی دباؤ ڈالنے کی حکمتِ عملی ہو۔ غیر یقینی صورتحال اس پالیسی کا حصہ ہے۔”

دوسری جانب وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے نسبتاً محتاط مؤقف اختیار کیا اور کہا کہ ایران میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن میں ہلاکتوں میں کمی آئی ہے اور فی الحال بڑے پیمانے پر سزاؤں کا کوئی منصوبہ نظر نہیں آتا۔

ایران کا ردعمل

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی میڈیا سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ

“ایران میں کسی کو پھانسی دینے کا کوئی منصوبہ نہیں، یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔”

تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ایران میں سزائے موت عام ہیں اور حالیہ احتجاج کے دوران ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں تک جا پہنچی ہے۔

وقت اور دائرہ کار غیر واضح

یورپی سفارتی ذرائع کے مطابق امریکی فوجی کارروائی آئندہ 24 گھنٹوں میں ہو سکتی ہے، جب کہ اسرائیلی حکام کا بھی ماننا ہے کہ امریکہ مداخلت کا فیصلہ کر چکا ہے، تاہم اس کی نوعیت اور وقت تاحال غیر واضح ہے۔

قطر نے تصدیق کی ہے کہ العدید ایئر بیس، جو مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے، وہاں سے عملے کی محدود واپسی جاری ہے۔ برطانیہ بھی قطر میں اپنے فوجی اہلکاروں کی جزوی واپسی پر غور کر رہا ہے۔

خطے کو پیغام

ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے مطابق تہران نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ترکی سمیت علاقائی ممالک کو پیغام دیا ہے کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو ان ممالک میں موجود امریکی اڈے بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔

ایران میں صورتحال

ایران میں دو ہفتوں سے جاری شدید احتجاج کو 1979 کے انقلاب کے بعد بدترین قرار دیا جا رہا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق اب تک 2 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ انسانی حقوق کے ادارے ہلاکتوں کی تعداد 2600 سے زائد بتاتے ہیں۔

ایک مغربی عہدیدار کے مطابق اگرچہ حکومت دباؤ کا شکار ہے، تاہم فی الحال ایرانی سکیورٹی ادارے صورتحال پر قابو رکھے ہوئے ہیں اور حکومت کے فوری خاتمے کے آثار نہیں۔

Related posts

پاکستان آج ون ڈے کرکٹ میں ہزارویں میچ کی تاریخ رقم کرے گا

مالدیپ 4 ملکی فٹبال ٹورنامنٹ کے لیے پاکستان کا 23 رکنی اسکواڈ کا اعلان

امریکا ایران کشیدگی: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پھر چڑھ گئیں