واشنگٹن/ امریکہ — صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن سخت پالیسیوں اور وفاقی ایجنٹس کی طرف سے Minneapolis میں ایک امریکی شہری کے قتل کے بعد منگل کو امریکہ بھر میں ہزاروں کارکنوں، طلبہ اور شہریوں نے بڑے پیمانے پر احتجاجی ریلیاں نکالیں۔
یہ احتجاج اس موقع پر ہوا جب ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت کا ایک سال مکمل ہوا، اور مظاہرین نے ملک بھر کے شہروں اور یونیورسٹیوں میں ٹرمپ انتظامیہ کی سخت امیگریشن حکمت عملی کے خلاف ریلیاں کیں۔
مظاہرے کہاں ہوئے؟
واشنگٹن ڈی سی میں سینکڑوں احتجاجی سڑکوں پر نکلے، جنہوں نے “No ICE, no KKK, no fascist USA” کے نعرے لگائے۔
North Carolina کے Asheville سمیت چھوٹے شہروں میں بھی ریلیاں ہوئیں۔
Ohio کے Cleveland میں یونیورسٹی کے طلبہ نے “No hate, no fear, refugees are welcome here” کے نعروں کے ساتھ مارچ کیا۔
Santa Fe, New Mexico میں اسکول کے طلبہ کلاس چھوڑ کر “Stop ICE Terror” ریلی میں شریک ہوئے۔
مظاہرے San Francisco اور Seattle کی جانب بھی پھیل رہے ہیں۔
احتجاج کی وجوہات
1. وفاقی ایجنٹس کی کریک ڈاؤن
ٹرمپ انتظامیہ نے ملک بھر میں Immigration and Customs Enforcement (ICE) کے سخت آپریشنز کا اعلان کیا، جس کے نتیجے میں Minnesota کے Minneapolis میں 37-سالہ امریکی شہری Renée Nicole Good کو ایک ICE ایجنٹ نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
2. امیگریشن پالیسیوں پر عوامی عدمِ اعتماد
نئے پولز کے مطابق زیادہ تر امریکی شہری ICE کے سخت اقدامات سے ناخوش ہیں اور وفاقی ایجنٹس کی طاقت کے استعمال پر سخت ناپسندیدگی پائی جاتی ہے۔
3. طلبہ اور ورکروں کی شمولیت
یونیورسٹی طلبہ، ہائی اسکول کے طلباء، مزدور یونینیں اور Indivisible، 50501 جیسے بائیں بازو کے گروپس نے احتجاج کی قیادت کی، خاص طور پر ایلی پاسو، ٹیکساس کے امیگریشن ڈٹینشن سینٹرز کے خلاف آپریشنز پر اعتراضات اٹھائے گئے۔
Kay News Urdu Simple & Impartial