بلوچستان میں دہشت گردی کی شدید لہر، کوئٹہ سمیت 12 شہروں میں حملے، 100 سے زائد شدت پسند ہلاک

بلوچستان میں دہشت گردی کی ایک نئی اور شدید لہر دیکھنے میں آ رہی ہے جہاں کوئٹہ سمیت صوبے کے 12 مختلف شہروں میں ہونے والے حملوں میں اب تک کم از کم 37 شدت پسند اور 10 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ سکیورٹی ذرائع کے مطابق جوابی کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کی تعداد 67 سے تجاوز کر گئی ہے۔

حکام کے مطابق کوئٹہ، نوشکی، دالبندین، پسنی، گوادر، مستونگ اور مچھ سمیت متعدد علاقوں میں صبح سویرے دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات رپورٹ ہوئے، جس کے بعد شہر کے حساس علاقوں کو سیل کر دیا گیا۔ کوئٹہ میں ریڈ زون بند کر دیا گیا جبکہ سول سیکریٹریٹ، عدالتوں اور دیگر سرکاری دفاتر میں کام معطل کر دیا گیا۔

وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق دہشت گردوں نے بلوچستان میں 12 مختلف مقامات کو نشانہ بنایا تاہم سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائیاں کرتے ہوئے بیشتر حملے ناکام بنا دیے۔ وزیراعظم آفس کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں میں مختلف آپریشنز کے دوران 88 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجگور اور شابان میں کارروائیوں کے دوران 41 شدت پسند مارے گئے جبکہ دو روز میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 108 ہو چکی ہے۔

ادھر کے نیوز اردو کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سنیچر کے حملوں میں 17 عام شہری بھی جاں بحق ہوئے ہیں، تاہم اس کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

کوئٹہ میں پولیس کے مطابق سریاب روڈ پر کارروائی کے دوران چار شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا جبکہ ایک حملے میں دو پولیس اہلکار بھی شہید ہوئے۔ دہشت گردی کے باعث کوئٹہ سے اندرونِ ملک جانے اور آنے والی ٹرین سروس معطل کر دی گئی ہے اور جعفر ایکسپریس کو جیک آباد میں روک دیا گیا ہے۔

بلوچستان حکومت نے صوبے میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے جبکہ کوئٹہ میں انٹرنیٹ سروس بند اور فضا میں سیکیورٹی ہیلی کاپٹرز کی گشت جاری ہے۔

کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے ’آپریشن ہیروف‘ کا دوسرا مرحلہ قرار دیا ہے۔

Related posts

پاکستان آج ون ڈے کرکٹ میں ہزارویں میچ کی تاریخ رقم کرے گا

مالدیپ 4 ملکی فٹبال ٹورنامنٹ کے لیے پاکستان کا 23 رکنی اسکواڈ کا اعلان

امریکا ایران کشیدگی: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پھر چڑھ گئیں