Uncategorized بنگلہ دیش میں تاریخی الیکشن، 15 سال بعد حقیقی سیاسی مقابلہ متوقع Zohaib Eliفروری 9, 202604 مشاهدات ڈھاکہ:بنگلہ دیش میں جمعرات کو ہونے والے عام انتخابات کو 2009 کے بعد ملک کا پہلا حقیقی اور مسابقتی الیکشن قرار دیا جا رہا ہے۔ سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد ان کی جماعت عوامی لیگ پر پابندی عائد ہے جبکہ اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کو واضح برتری حاصل ہے۔ کے نیوز اردو کے مطابق بی این پی 300 میں سے 292 نشستوں پر انتخاب لڑ رہی ہے اور پارٹی قیادت کو حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت حاصل ہونے کا پُر اعتماد یقین ہے۔ تاہم اسلامی جماعت جماعتِ اسلامی کی قیادت میں اتحاد مضبوط چیلنج پیش کر رہا ہے، جس کے ساتھ 30 سال سے کم عمر جین زی کارکنوں پر مشتمل نئی سیاسی جماعت بھی شامل ہو چکی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق 12 فروری کے انتخابات میں واضح نتیجہ ملک میں استحکام کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد بنگلہ دیش کئی ماہ کے سیاسی انتشار، معاشی سست روی اور صنعتی بحران کا شکار رہا، خصوصاً گارمنٹس سیکٹر شدید متاثر ہوا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تقریباً ایک چوتھائی ووٹرز جین زی نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کا ووٹ انتخابی نتائج پر فیصلہ کن اثر ڈال سکتا ہے۔ اگرچہ رائے عامہ کے جائزے بی این پی کو برتری دے رہے ہیں، تاہم بڑی تعداد میں ووٹرز اب بھی غیر فیصلہ کن ہیں۔ انتخابی نتائج کا اثر خطے کی سیاست پر بھی پڑے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق چین کا اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے جبکہ بھارت کا اثر کم ہو رہا ہے۔ عوامی لیگ کو بھارت نواز سمجھا جاتا تھا اور شیخ حسینہ حکومت کے خاتمے کے بعد نئی دہلی منتقل ہو گئیں۔ جماعتِ اسلامی کی کامیابی کی صورت میں بنگلہ دیش کے پاکستان کے قریب جانے کے امکانات بھی زیرِ بحث ہیں۔ بدعنوانی، مہنگائی اور معاشی بدحالی ووٹرز کے اہم ترین مسائل قرار دیے گئے ہیں۔ سروے رپورٹس کے مطابق ووٹرز مذہبی نعروں کے بجائے شفاف قیادت، احتساب اور معاشی بہتری چاہتے ہیں۔ 21 سالہ نوجوان ووٹر محمد راکب کا کہنا ہے کہ عوام طویل عرصے سے آزادانہ ووٹ کے حق سے محروم تھے اور اب امید ہے کہ آنے والی حکومت اظہارِ رائے اور جمہوری آزادی کو یقینی بنائے گی۔