روسی صدر ولادیمیر پوتن کے قریبی اتحادی اور روسی سیکیورٹی کونسل کے نائب چیئرمین دیمتری میڈویڈیف نے امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن نے ایران کے ساتھ جاری جوہری مذاکرات کو اپنی فوجی کارروائیوں کے لیے پردہ پوشی کے طور پر استعمال کیا۔
میڈویڈیف نے ٹیلی گرام پر لکھا:
"پرامن کرنے والا ایک بار پھر اپنے اصل رنگ دکھا گیا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ:
"ایران کے ساتھ تمام مذاکرات صرف ایک کور آپریشن تھے۔ کسی نے کبھی اس پر شک نہیں کیا۔ دراصل کوئی بھی واقعی کسی معاہدے پر آمادہ نہیں تھا۔”
روسی عہدیدار کے مطابق امریکہ کی حالیہ کارروائی، جس میں ایران پر امریکی و اسرائیلی فضائی حملے شامل ہیں، عالمی سیاسی اور سفارتی ماحول کو مزید غیر مستحکم کر رہی ہیں۔
علاقائی پس منظر:
یہ تبصرہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ فضائی حملوں کے ذریعے ایران کے مختلف علاقوں میں ہدف بنایا، جس کے بعد تہران نے اس کا جواب دینے کے لیے میزائل لانچ کرنے کی دھمکی دی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، روس کی جانب سے یہ بیان واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری کشیدگی میں توازن قائم رکھنے اور عالمی سطح پر امریکی کارروائیوں کو تنقید کا نشانہ بنانے کی کوشش ہے۔
Kay News Urdu Simple & Impartial