اسلام آباد: پاکستان میں 5G اسپیکٹرم آکشن کے نتائج کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا۔
وفاقی وزیر خزانہ Muhammad Aurangzeb، وزیر آئی ٹی Shaza Fatima Khawaja اور وزیر اطلاعات Attaullah Tarar نے چیئرمین Pakistan Telecommunication Authority جنرل (ر) Hafeez ur Rehman کے ہمراہ 5G اسپیکٹرم نیلامی کا آغاز کیا۔
اس موقع پر پی ٹی اے نے 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم نیلامی کے لیے پیش کیا۔
اسپیکٹرم نیلامی کی تفصیلات
چیئرمین پی ٹی اے کے مطابق آکشن کے پہلے مرحلے میں مختلف بینڈز کی الاٹمنٹ کی گئی:
- 700 میگا ہرٹز بینڈ میں 3 لاٹس میں سے 2 فروخت ہو گئے
- 2300 میگا ہرٹز بینڈ میں 5 لاٹس تھے جو تمام فروخت ہو گئے
- 2600 میگا ہرٹز بینڈ میں 19 لاٹس تھے جو مکمل طور پر فروخت ہو گئے
- 3500 میگا ہرٹز بینڈ میں 28 لاٹس میں سے 22 لاٹس فروخت ہوئے (220 میگا ہرٹز)
چیئرمین پی ٹی اے کے مطابق ایک کمپنی نے 190 میگا ہرٹز، دوسری نے 180 میگا ہرٹز جبکہ تیسری کمپنی نے 110 میگا ہرٹز اسپیکٹرم خریدا۔
انہوں نے بتایا کہ اسپیکٹرم نیلامی کے پہلے مرحلے میں 507 ملین ڈالر پر قیمت لاک ہوئی جبکہ مجموعی طور پر 144.5 ارب روپے کی نیلامی مکمل ہوئی۔
مزید بتایا گیا کہ 597.2 میگا ہرٹز میں سے 480 میگا ہرٹز اسپیکٹرم فروخت ہو چکا ہے۔
پاکستان کے لیے تاریخی دن
وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کے لیے یہ ایک تاریخی دن ہے کیونکہ ملک میں پہلی بار 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم نیلامی کے لیے پیش کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے پاکستان میں صرف 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم دستیاب تھا جس کی وجہ سے انٹرنیٹ کی رفتار سست تھی اور پاکستان خطے میں سب سے کم اسپیکٹرم پر کام کر رہا تھا۔
وزیر آئی ٹی کا کہنا تھا کہ 5G ٹیکنالوجی کے آغاز سے پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت، ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ انفراسٹرکچر مضبوط ہوگا۔
Kay News Urdu Simple & Impartial