Muzammil Aslam نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ Pakistan Tehreek-e-Insaf کے دور حکومت میں جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچی تو حکومت نے صارفین کو ریلیف دینے کے لیے 24 روپے فی لیٹر ایڈجسٹمنٹ دی تھی۔
اپنے بیان میں صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ اس وقت حکومت نے عوام پر اضافی ٹیکس عائد کیے بغیر صورتحال کو سنبھالا تھا جبکہ اُس فیصلے کو اُس وقت اپوزیشن نے آئی ایم ایف مخالف قرار دیا تھا۔
مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت بھی تقریباً اسی طرح کے معاشی حالات کا سامنا کر رہی ہے اور حکومت نے 23 ارب روپے کا فرق پورا کیا جو ڈیزل پر تقریباً 75 روپے اور پیٹرول پر 50 روپے فی لیٹر بنتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی دور حکومت میں پیٹرولیم لیوی اور سیلز ٹیکس صفر کر دیا گیا تھا تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
صوبائی وزیر خزانہ کے مطابق اس وقت ایک ہفتے کے دوران مٹی کے تیل کی قیمت میں 170 روپے فی لیٹر تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس سے عوامی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔
Kay News Urdu Simple & Impartial