سڈنی: آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز کو عید الفطر کی نماز کے موقع پر ملک کی سب سے بڑی مسجد میں احتجاج اور نعرے بازی کا سامنا کرنا پڑا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم البانیز اور وزیر داخلہ ٹونی برک سڈنی کے مغربی علاقے میں واقع لکیمبا مسجد میں عید کی نماز میں شرکت کے لیے پہنچے، جہاں کچھ مظاہرین نے ان کے خلاف نعرے بازی اور احتجاج کیا۔
مظاہرین نے حکومت کے اسرائیل کے حوالے سے مؤقف پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے انہیں "Get out” کے نعرے لگائے اور "genocide supporters” بھی قرار دیا، جس سے مراد غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف کارروائیاں تھیں۔
عینی شاہدین کے مطابق تقریباً 30 ہزار افراد کے اجتماع میں سے چند افراد نے احتجاج کیا، جبکہ منتظمین نے صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے شرکاء سے پرسکون رہنے کی اپیل کی اور یاد دلایا کہ "یہ عید کا دن ہے، خوشی کا موقع ہے”۔
اس دوران سیکیورٹی اہلکاروں نے ایک مظاہرہ کرنے والے شخص کو قابو کر کے موقع سے ہٹا دیا۔
بعد ازاں وزیراعظم انتھونی البانیز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجموعی طور پر تقریب انتہائی مثبت رہی اور چند افراد کے احتجاج کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ دنوں میں حکومت کے بعض فیصلوں، بشمول ایک تنظیم کو ممنوعہ قرار دینے کے اقدام، پر بھی کمیونٹی میں ردعمل پایا جاتا ہے، جس کے باعث کچھ حلقوں میں ناراضی دیکھی جا رہی ہے۔
Kay News Urdu Simple & Impartial