Uncategorized اسلام آباد میں امریکا-ایران آمنے سامنے مذاکرات، 1979 کے بعد تاریخی پیش رفت Zohaib Eliاپریل 11, 202607 مشاهدات اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت Islamabad میں امریکا اور ایران کے درمیان آمنے سامنے سہ فریقی مذاکرات جاری ہیں، جنہیں 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ ترین سطح کی پہلی براہِ راست ملاقات قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات پاکستان کی ثالثی میں ہو رہے ہیں اور اس دوران دونوں فریقین نے اپنی تجاویز میں ایسے نکات کی نشاندہی کی ہے جہاں پیش رفت کے امکانات موجود ہیں۔ یہ پیش رفت اس بات کا اشارہ بھی سمجھی جا رہی ہے کہ مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ سکتے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر بھی ان بات چیت کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں میں جاری جنگ نے نہ صرف عالمی تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا بلکہ مشرق وسطیٰ میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا اور ہزاروں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر جنگ بندی میں توسیع اور بالآخر ایک مستقل امن معاہدہ طے پا جاتا ہے تو نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا میں استحکام آ سکتا ہے۔ ایران کے عوام، جو برسوں سے پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں، ممکنہ معاہدے کے بعد معاشی ریلیف کی امید رکھتے ہیں، تاہم ملک کے اندر بعض حلقوں میں نئی قیادت کے حوالے سے خدشات بھی پائے جاتے ہیں۔