Uncategorized امریکہ کا ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ شروع Zohaib Eliاپریل 14, 202603 مشاهدات واشنگٹن: Donald Trump کی قیادت میں امریکہ نے ایران کی بندرگاہوں کا باقاعدہ محاصرہ شروع کر دیا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، تاہم مذاکرات کی امید کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ اقدام اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ-ایران مذاکرات کی ناکامی کے بعد کیا گیا، تاہم پس پردہ رابطے اور سفارتی کوششیں تاحال جاری ہیں۔ پاکستان کے وزیراعظم Shehbaz Sharif نے بھی تصدیق کی ہے کہ تنازع کے حل کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران نے رابطہ کیا ہے اور معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم امریکہ کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جس سے ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت ملے۔ دوسری جانب ایران نے Strait of Hormuz پر اپنی گرفت مزید مضبوط کر لی ہے اور واضح کیا ہے کہ گزرنے والے جہازوں کو ایرانی شرائط کے تحت فیس ادا کرنا ہوگی۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی سپلائی کے لیے نہایت اہم ہے، جہاں سے جنگ سے قبل دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی تھی۔ امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی بحری جہازوں یا ٹول ادا کرنے والے جہازوں کو روکا جائے گا، جبکہ ایران نے بھی کسی بھی فوجی مداخلت پر سخت ردعمل دینے کی دھمکی دی ہے۔ دلچسپ پیشرفت میں ایک چینی ٹینکر "Rich Starry” محاصرے کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والا پہلا جہاز بن گیا، جو چین کی جانب روانہ ہوا۔ ادھر نیٹو اتحادیوں NATO میں شامل برطانیہ اور فرانس نے اس محاصرے کا حصہ بننے سے انکار کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے اور آبی راستہ کھولنے پر زور دیا ہے۔ امریکی نائب صدر JD Vance کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی، تاہم ایران امریکی شرائط کو مکمل طور پر تسلیم نہیں کر سکا۔