آبنائے ہرمز کھلی مگر خطرہ برقرار: ایران کا دوٹوک پیغام، امریکی دباؤ مسترد

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان Iran نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے کا اعلان کر کے دنیا کو ایک مثبت پیغام دیا ہے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب عالمی معیشت توانائی بحران کے دہانے پر کھڑی تھی، اور تیل کی ترسیل متاثر ہونے سے شدید خدشات پیدا ہو رہے تھے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا یہ اعلان دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ تہران خطے میں استحکام چاہتا ہے، مگر اس کے ساتھ ہی ایران نے واضح کر دیا ہے کہ یکطرفہ دباؤ اور امریکی پابندیوں کے سائے میں امن قائم نہیں رہ سکتا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا یہ دوٹوک مؤقف کہ اگر امریکی ناکہ بندی جاری رہی تو آبنائے ہرمز دوبارہ بند ہو سکتی ہے، دراصل عالمی طاقتوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے۔

دوسری جانب Donald Trump کے بیانات زمینی حقائق سے متصادم دکھائی دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر کیے گئے دعوے کہ ایران ہمیشہ کے لیے آبنائے ہرمز بند نہیں کرے گا، ایک سیاسی بیانیہ تو ہو سکتا ہے، مگر خطے کی حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ ایران بارہا واضح کر چکا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام اس کا خودمختار حق ہے، اور کسی بھی قسم کا دباؤ قابل قبول نہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل و گیس کی ترسیل ہوتی ہے، صرف ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔ ایران نے اسے کھول کر اپنی سنجیدگی ظاہر کی ہے، مگر امریکی پابندیوں اور بحری ناکہ بندی نے صورتحال کو بدستور غیر یقینی بنا رکھا ہے۔

خطے میں ہونے والی سفارتی کوششوں، خصوصاً Pakistan کے کردار، نے کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاہم جب تک امریکہ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی نہیں کرتا، اس وقت تک پائیدار امن کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ ایران نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنی خودمختاری کا محافظ ہے بلکہ عالمی اقتصادی استحکام میں بھی کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ اب گیند امریکہ کے کورٹ میں ہے کہ وہ تصادم کا راستہ اختیار کرتا ہے یا سفارتکاری کا۔

Related posts

پاکستان آج ون ڈے کرکٹ میں ہزارویں میچ کی تاریخ رقم کرے گا

مالدیپ 4 ملکی فٹبال ٹورنامنٹ کے لیے پاکستان کا 23 رکنی اسکواڈ کا اعلان

امریکا ایران کشیدگی: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پھر چڑھ گئیں