Uncategorized قالیباف کا دوٹوک مؤقف: دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات قبول نہیں، ایران نئی حکمت عملی کیلئے تیار Zohaib Eliاپریل 21, 202602 مشاهدات تہران / اسلام آباد:ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر Mohammad Baqer Qalibaf نے واضح کیا ہے کہ ایران کسی بھی صورت دھمکیوں کے دباؤ میں United States کے ساتھ مذاکرات قبول نہیں کرے گا۔ اپنے بیان میں قالیباف نے Donald Trump پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور بحری ناکہ بندی کے ذریعے مذاکرات کو “ہتھیار ڈالنے” کے عمل میں تبدیل کرنا چاہتا ہے، جو ایران کیلئے ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ایران نے خود کو ہر طرح کے حالات کیلئے تیار کر لیا ہے اور “میدانِ جنگ میں نئے کارڈز” ظاہر کرنے کیلئے بھی مکمل طور پر تیار ہے۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب Sea of Oman میں ایرانی تجارتی جہاز پر امریکی کارروائی اور ایران کی بندرگاہوں پر جاری ناکہ بندی نے کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے، جسے تہران نے جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ امریکا سنجیدہ مذاکرات نہیں چاہتا اور اگر اسی طرز عمل کو دہرایا گیا تو ایران سخت ردعمل دے گا۔ دوسری جانب ایرانی صدر Masoud Pezeshkian نے بھی امریکی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کسی بھی جبر کے آگے نہیں جھکے گا۔ ادھر پاکستان کی ثالثی میں ممکنہ مذاکرات کے اگلے مرحلے پر غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، جبکہ ذرائع کے مطابق امریکی وفد کی Islamabad آمد متوقع ہے۔