Uncategorized اسلام آباد مذاکرات: پاکستان کی سفارت کاری اور سب سے بڑا خطرہ Zohaib Eliاپریل 21, 202608 مشاهدات مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی کے تناظر میں اسلام آباد ایک بار پھر عالمی سفارت کاری کے مرکز کے طور پر ابھرا ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع کو کم کرنے کی سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔ یہ مذاکرات پاکستان کے لیے محض ایک سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک اہم امتحان بھی ہیں، جس پر اس کی عالمی ساکھ اور علاقائی کردار کا انحصار ہے۔ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے حالیہ ہفتوں میں متحرک اور متوازن حکمت عملی اپنائی ہے، جس میں بیک چینل سفارتکاری اور براہِ راست رابطے شامل ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ہونے والی کوششوں نے 8 اپریل کو ایک عارضی جنگ بندی ممکن بنائی، جو ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھی گئی۔ 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے پہلے مذاکرات نے پاکستان کو سفارتی کامیابی دلائی، جہاں دونوں فریقین ایک ہی پلیٹ فارم پر آئے۔ اگرچہ بات چیت طویل رہی، مگر بنیادی اختلافات—خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام اور امریکی مطالبات—اب بھی برقرار ہیں۔ امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بحری ناکہ بندی اور سخت بیانات نے اعتماد کی فضا کو متاثر کیا، جبکہ ایران نے ان اقدامات کو اشتعال انگیز اور غیر قانونی قرار دیا۔ تہران کا مؤقف واضح ہے کہ دباؤ کے ماحول میں مذاکرات دیرپا حل نہیں دے سکتے۔ حالیہ دنوں میں ایک ایرانی جہاز کی امریکی تحویل میں لیے جانے کا واقعہ بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنا، جس نے مذاکراتی عمل کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ پاکستان ایک مشکل توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے—ایک طرف عالمی طاقت امریکہ، اور دوسری جانب ایران کی خودمختاری کا حساس مسئلہ۔ یہ توازن ہی اس ثالثی کی کامیابی یا ناکامی کا تعین کرے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام آباد مذاکرات کی کامیابی کا انحصار صرف پاکستان کی سفارتی مہارت پر نہیں بلکہ امریکہ اور ایران کی سنجیدگی، لچک اور باہمی اعتماد پر بھی ہے۔ اگر دونوں فریقین اپنی پوزیشنز میں نرمی دکھاتے ہیں، تو یہ مذاکرات خطے میں دیرپا امن کی بنیاد رکھ سکتے ہیں، بصورت دیگر یہ ایک اور ضائع ہونے والا موقع ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ لمحہ بیک وقت امتحان بھی ہے اور موقع بھی—ایک ایسا موقع جس سے وہ نہ صرف خطے میں امن کا کردار ادا کر سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر اپنی سفارتی اہمیت بھی منوا سکتا ہے۔ل لیکن ۔۔۔۔ بڑا خطرہ یہ ہے کہیں پاکستان کسی ایک بیانیے کا حصہ نہ بن جائے؟ اس تمام عمل میں ایک بنیادی اور نہایت حساس خطرہ مسلسل موجود ہے: کہیں پاکستان کسی ایک فریق کے بیانیے کا حصہ بنتا ہوا نظر نہ آئے۔ یہ خطرہ محض سفارتی اصطلاح نہیں بلکہ ایک عملی حقیقت ہے۔ عالمی سیاست میں تاثر (perception) اکثر حقیقت سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ اگر پاکستان کا جھکاؤ، چاہے غیر ارادی طور پر ہی کیوں نہ ہو، کسی ایک جانب محسوس کیا گیا تو اس کے اثرات فوری طور پر مذاکراتی عمل پر اور طویل المدتی طور پر پاکستان کی ساکھ پر مرتب ہوں گے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مذاکراتی عمل، جس میں پاکستان نے سہولت کار کا کردار ادا کیا، ایک نازک توازن کا تقاضا کرتا ہے۔ ایک جانب امریکہ ہے جو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے دباؤ، پابندیوں اور عسکری طاقت کے استعمال سے گریز نہیں کرتا، جبکہ دوسری جانب ایران ہے جو خودمختاری، علاقائی اثر و رسوخ اور قومی وقار کے معاملات پر انتہائی حساس ہے۔ ایسے میں پاکستان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ محض ایک خاموش میزبان بن کر رہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کی پالیسی بظاہر محتاط ضرور ہے، مگر بعض مواقع پر یہ احتیاط مبہمیت میں تبدیل ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ یہی مبہمیت سب سے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ اگر اسلام آباد واضح اور اصولی مؤقف اپنانے سے گریز کرتا ہے تو اس کی غیر جانبداری کمزوری سمجھی جا سکتی ہے، جبکہ اگر وہ کسی ایک فریق کے اقدامات پر خاموشی اختیار کرتا ہے تو اسے خاموش حمایت تصور کیا جا سکتا ہے۔ حالیہ واقعات — جیسے آبنائے ہرمز میں کشیدگی، بحری سرگرمیاں اور سخت بیانات — اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مذاکراتی عمل صرف میز تک محدود نہیں بلکہ میدانِ عمل میں بھی جاری ہے۔ ایسے میں پاکستان کا کردار صرف سہولت کاری تک محدود نہیں رہ سکتا۔ اسے واضح طور پر ان اقدامات پر ردعمل دینا ہوگا جو امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، چاہے وہ کسی بھی فریق کی جانب سے ہوں۔ پاکستان کے لیے ایک اور چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنی داخلی اور علاقائی ترجیحات کو بھی مدنظر رکھے۔ ایک جانب اسے عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے ہیں، تو دوسری جانب خطے میں استحکام اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ توازن بھی قائم رکھنا ہے۔ یہ توازن اسی صورت ممکن ہے جب پاکستان اپنی پوزیشن کو شفاف، اصولی اور خودمختار انداز میں پیش کرے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک کامیاب ثالث وہی ہوتا ہے جو صرف پیغام رسانی تک محدود نہ رہے بلکہ اعتماد سازی میں فعال کردار ادا کرے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان دونوں فریقین کو یہ یقین دلائے کہ وہ کسی دباؤ یا مفاد کے تحت نہیں بلکہ ایک منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے کوشاں ہے۔