ایران کی تینوں ریاستی شاخوں کا ٹرمپ کو دوٹوک جواب، “قوم متحد ہے”

تہران:
Masoud Pezeshkian، Mohammad Bagher Ghalibaf اور Gholamhossein Mohseni Ejei نے امریکی صدر Donald Trump کے ایران کے اندرونی اختلافات سے متعلق بیانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے قومی اتحاد پر زور دیا ہے۔

ایرانی قیادت نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیانات میں کہا کہ ایران میں “انتہاپسند” اور “اعتدال پسند” جیسی تقسیم مغربی بیانیہ ہے، جبکہ حقیقت میں پوری قوم ایک ہے۔

صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران میں سب لوگ “ایرانی اور انقلابی” ہیں اور قوم و ریاست کے درمیان مکمل اتحاد موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مضبوط یکجہتی کے ساتھ ہر جارحیت کا جواب دیا جائے گا۔

اسی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے پارلیمنٹ اسپیکر قالیباف نے بھی مشترکہ پیغام جاری کیا، جس کا مقصد ریاستی اداروں کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور اتحاد کو ظاہر کرنا تھا۔

عدلیہ کے سربراہ محسنی ایجئی نے مزید سخت لہجے میں کہا کہ “ہارڈ لائنر” اور “موڈریٹ” جیسی اصطلاحات مغربی سیاسی سوچ کی پیداوار ہیں، ایران میں تمام طبقات قیادت کے ساتھ مکمل طور پر متحد ہیں۔

یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا جب ٹرمپ نے ایران کے بارے میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہاں حکومت کے اندر تقسیم پائی جاتی ہے، اور اسی بنیاد پر جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا گیا۔

یاد رہے کہ United States اور Iran کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد 8 اپریل کو عارضی جنگ بندی ہوئی تھی، جس کے بعد Islamabad میں مذاکرات بھی ہوئے، تاہم 21 گھنٹے طویل بات چیت کے باوجود کوئی حتمی معاہدہ نہ ہو سکا۔

ایران نے مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کی وجہ امریکی وعدوں پر عدم اعتماد کو قرار دیا۔

Related posts

پاکستان آج ون ڈے کرکٹ میں ہزارویں میچ کی تاریخ رقم کرے گا

مالدیپ 4 ملکی فٹبال ٹورنامنٹ کے لیے پاکستان کا 23 رکنی اسکواڈ کا اعلان

امریکا ایران کشیدگی: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پھر چڑھ گئیں