Uncategorized ایران کی نئی پیشکش پر ٹرمپ ناخوش، مذاکراتی امیدوں کو دھچکا Zohaib Eliاپریل 28, 202607 مشاهدات واشنگٹن / تہران:امریکی صدر Donald Trump ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کی گئی تازہ تجویز سے مطمئن نہیں، جس کے بعد امن مذاکرات کی امیدوں کو ایک بار پھر دھچکا لگا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق Iran کی تجویز میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ جوہری پروگرام پر بات چیت جنگ کے خاتمے اور خلیج میں بحری تنازعات کے حل کے بعد کی جائے، تاہم United States اس مؤقف کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کا اصرار ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کا آغاز ابتدائی مرحلے میں ہی ہونا چاہیے، اور یہی نکتہ دونوں ممالک کے درمیان سب سے بڑا اختلاف بن گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کے مطابق امریکا اپنے مؤقف پر واضح ہے اور میڈیا کے ذریعے مذاکرات نہیں کرے گا، جبکہ انتظامیہ جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی شرائط پر قائم ہے۔ یاد رہے کہ 2015 میں ہونے والا جوہری معاہدہ، جس میں امریکا بھی شامل تھا، Donald Trump کے پہلے دورِ صدارت میں ختم ہو گیا تھا، جس کے بعد کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا۔ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ Abbas Araghchi نے حالیہ دنوں میں Islamabad، Muscat اور Moscow کے دورے کیے، جہاں انہوں نے سفارتی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ ادھر آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور امریکی ناکہ بندی کے باعث عالمی تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق روزانہ گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جو عالمی معیشت کے لیے تشویش کا باعث ہے۔