اہم ترین ٹرمپ کے بعد پیوٹن بھی بیجنگ پہنچ گئے، استقبال کا فرق نمایاں رہا News Deskمئی 20, 202605 مشاهدات ٹرمپ کے بعد پیوٹن بھی بیجنگ پہنچ گئے، استقبال کا فرق نمایاں رہا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین کے صرف چار دن بعد روسی صدر ولادیمیر پیوٹن بھی بیجنگ پہنچ گئے جہاں چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے ان کا استقبال کیا۔ یہ پیوٹن کا 25واں دورہ چین ہے اور اس کا وقت محض اتفاق نہیں۔ ہوائی اڈے پر چینی افواج کے دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا جبکہ نوجوانوں نے دونوں ممالک کے پرچم لہرا کر روسی صدر کو خوش آمدید کہا۔ پیوٹن اپنے قیام کے دوران دیاؤیوتائی اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں ٹھہریں گے جو غیر ملکی رہنماؤں کے لیے چین کا روایتی اور معزز مقام سمجھا جاتا ہے۔ سرکاری دورے کا باقاعدہ آغاز تیانانمن اسکوائر کی استقبالیہ تقریب سے ہوگا، اس کے بعد صدر شی جن پنگ سے ملاقات طے ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ کا استقبال چین کے نائب صدر ہان ژینگ نے کیا تھا اور وہ امریکی سفارت خانے کے قریب ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں ٹھہرے۔ ان کے دورے کا اختتام ژونگ نان ہائی میں چائے اور ورکنگ لنچ پر ہوا — یہ چینی قیادت کا وہ مخصوص کمپاؤنڈ ہے جہاں بہت کم غیر ملکی رہنماؤں کو مدعو کیا جاتا ہے۔ چینی میڈیا کے مطابق یہ اعلیٰ رسائی اس لیے دی گئی کیونکہ امریکا اور چین کے تعلقات کشیدہ ہیں اور اس قدم کا مقصد اعتماد سازی تھا۔ پیوٹن کے لیے وزیر خارجہ کی سطح پر استقبال اور روایتی مقام پر قیام کو چینی ذرائع ابلاغ نے مختلف انداز میں بیان کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ماسکو اور بیجنگ کے درمیان پہلے سے اتنا گہرا باہمی اعتماد موجود ہے کہ اسے ثابت کرنے کے لیے علامتی اقدامات کی ضرورت نہیں پڑتی۔ پیوٹن اس سے قبل بھی ژونگ نان ہائی کا دورہ کر چکے ہیں، جس کا ذکر شی جن پنگ نے خود ٹرمپ کو وہ مقام دکھاتے ہوئے کیا۔ یہ دورہ ایک اور لحاظ سے بھی اہم ہے — روس اور چین کے درمیان ‘ہمسائیگی اور دوستانہ تعاون کے معاہدے’ کو 25 سال مکمل ہو رہے ہیں۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے تعلقات کی بنیاد سمجھا جاتا ہے اور اس سالگرہ پر پیوٹن کا دورہ اس شراکت داری کو مزید تقویت دینے کا پیغام دیتا ہے۔