ایران معاہدے پر فیصلہ کن مرحلہ، ٹرمپ نے اہم اجلاس بلا لیا

ایران جوہری معاہدے پر ٹرمپ نے کابینہ کا غیر معمولی اجلاس طلب کرلیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے جاری مذاکرات کے حوالے سے وائٹ ہاؤس میں کابینہ کا غیر معمولی اجلاس طلب کرلیا ہے، جس میں ایران کے ساتھ وسیع تر جوہری معاہدے پر اگلے اقدامات طے کیے جائیں گے۔

امریکی میڈیا کے مطابق اجلاس میں عہدے سے سبکدوش ہونے والی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس تلسی گیبرڈ سمیت تمام کابینہ ارکان شریک ہوں گے۔ ٹرمپ انتظامیہ اس وقت ایران کے ساتھ کسی بڑے معاہدے کی حتمی شکل دینے کے لیے سرگرم ہے اور توقع ہے کہ اجلاس میں اس ضمن میں اہم فیصلے کیے جائیں گے۔

اس سے قبل صدر ٹرمپ نے سی بی ایس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کے مذاکرات کار ایک معاہدے کے "کافی قریب” پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے گا اور افزودہ یورینیم کو تسلی بخش انداز میں ٹھکانے لگانے کی ضمانت بھی دے گا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ صرف ایسے معاہدے پر دستخط کریں گے جس میں امریکا کے تمام مطالبات پورے ہوں۔

ایران کے افزودہ یورینیم کو منتقل کرنے سے متعلق ٹرمپ کے بیان پر ایرانی سفارتخانوں کی جانب سے ردعمل آیا۔ گھانا میں ایرانی سفارتخانے نے کہا کہ افزودہ یورینیم ایران میں ہے اور وہیں رہے گی، جبکہ کینیا میں ایرانی سفارتخانے نے ٹرمپ پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے نیوکلیئر منصوبے کے وہم میں مبتلا ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا یہ مرحلہ حساس ہے۔ آنے والے دنوں میں وائٹ ہاؤس کے اس اجلاس کے بعد امریکی موقف مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔

Related posts

ریسکیو اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تمام بچوں کو گاڑی سے بحفاظت نکال لیا

اسرائیلی وزیر دفاع کا دباؤ کے باوجود جنوبی لبنان سے فوج نہ ہٹانے کا اعلان

تین ماہ سے جاری کشیدگی کے درمیان چین کا واضح پیغام — بندوق نہیں، بات چیت چاہیے