پاکستان افغانستان سے دہشتگردی کا سلسلہ ختم ہو، پاکستان کا واضح مطالبہ News Deskجون 4, 202604 مشاهدات افغانستان سے حملوں نے پاکستان کے صبر کا امتحان لیا، اپنے شہریوں اور اداروں پر حملے برداشت نہیں کریں گے: دفتر خارجہ اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشتگردی کا جو تسلسل جاری ہے، اس نے پاکستان کے صبر کو حد سے زیادہ آزمایا ہے۔ پاکستانی شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے اب مزید برداشت نہیں کیے جاسکتے۔ طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان خود دہشتگردی کا شکار ملک ہے اور ہزاروں پاکستانی شہری اس لعنت کی نذر ہو چکے ہیں۔ پاکستانی سکیورٹی فورسز کو سرحد پار سے منظم، مالی امداد یافتہ اور سرپرستی یافتہ دہشتگردانہ کارروائیوں کا مسلسل سامنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کوئی بھی ذمہ دار ریاست اپنی خودمختاری اور عوام کی سلامتی کو نشانہ بنانے والے حملوں پر خاموش تماشائی نہیں بن سکتی۔ ترجمان نے بتایا کہ اسی پس منظر میں پاکستان نے سرحدی علاقوں میں اپنے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کیے ہیں۔ پاکستان افغانستان سے یہ یقین دہانی چاہتا ہے کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف کسی بھی دہشتگردانہ سرگرمی کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ طاہر اندرابی نے یہ بھی کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ مسائل کو مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ دونوں ممالک کے عوام مذہب، تاریخ، ثقافت اور زبان کے گہرے رشتوں میں بندھے ہیں۔ پاکستان افغانستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کا خواہاں ہے اور بات چیت کا دروازہ کھلا رکھنا چاہتا ہے۔ بھارت کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی صورتحال پر پاکستان کو شدید تشویش ہے۔ پاکستان اس معاملے پر یورپی یونین اور دیگر بین الاقوامی اداروں سے مسلسل رابطے میں ہے۔ یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کے ساتھ ملاقات میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مسئلہ باضابطہ طور پر اٹھایا گیا۔