پاکستان پاکستانی سفیر کا اقوام متحدہ میں طالبان حکومت کی پالیسیوں پر کھل کر اظہار تشویش News Deskاگست 17, 202606 مشاهدات پاکستان کا افغان عوام سے اختلاف نہیں، طالبان حکومت کی پالیسیوں پر اعتراض ہے: عاصم افتخار اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا ہے کہ طالبان حکومت خطے کو غیر مستحکم کرنے کے لیے خود ایک پراکسی بن چکی ہے۔ اقوام متحدہ سے خطاب کرتے ہوئے عاصم افتخار نے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو افغان سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں اور سہولت حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان حکومت ٹی ٹی پی کو اسلحہ اور مالی معاونت فراہم کر رہی ہے، اور یہ گروہ پاکستان میں دراندازی کے لیے افغان سرزمین استعمال کر رہا ہے۔ پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ پاکستان کا افغان عوام سے کوئی اختلاف نہیں، اعتراض صرف طالبان حکومت کی پالیسیوں پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت نے 2021 کے بعد اپنے تین بنیادی وعدوں میں سے کسی پر بھی عملی پیشرفت نہیں دکھائی۔ خواتین اور بچیوں کے حقوق پر عائد پابندیاں بھی طالبان حکومت کی ناکامی شمار ہوتی ہیں۔ عاصم افتخار نے بتایا کہ سعودی عرب، ترکیہ، چین اور قطر افغانستان کے معاملے پر ثالثی کا کردار ادا کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان حکومت کو دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 2025 میں پاکستان میں دہشت گردی کے 5 ہزار 200 سے زائد واقعات پیش آئے، جن میں ایک ہزار 300 سے زائد پاکستانی شہری جاں بحق ہوئے۔ ان کے مطابق 2026 کے پہلے چھ ماہ میں پاکستان میں 3 ہزار سے زائد حملے ہو چکے ہیں، جن میں رواں سال 830 سے زائد پاکستانی جاں بحق ہوئے ہیں۔