دنیا ہائی جیکنگ کا الارم کاک پٹ میں دونوں پائلٹس کے درمیان لڑائی کا نتیجہ نکلا News Deskستمبر 30, 2026045 مشاهدات فلائی دبئی کی پرواز میں ہائی جیک کوڈ، اسرائیلی جنگی طیارے فضا میں، سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ، معاملہ پائلٹس کی لڑائی نکلا دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز نے بدھ کی صبح ہائی جیکنگ کا بین الاقوامی الرٹ نشر کر دیا۔ اسرائیل نے فوری طور پر جنگی طیارے فضا میں بھیجے اور طیارے کو سعودی عرب میں ہنگامی طور پر اتارنا پڑا۔ چند گھنٹوں میں صورتحال بدل گئی اور معلوم ہوا کہ اصل معاملہ ہائی جیکنگ نہیں بلکہ کاک پٹ میں دونوں پائلٹس کے درمیان جھگڑا تھا۔ بعد میں اسرائیلی ٹی وی نے بتایا کہ ایک پائلٹ روسی اور دوسرا یوکرینی تھا۔ بوئنگ 737 میکس پر مشتمل پرواز FZ1073 مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 7 بج کر 5 منٹ پر دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے روانہ ہوئی۔ طیارے میں تقریباً 174 مسافر سوار تھے، جن میں 27 بچے اور بڑی تعداد میں اسرائیلی شہری شامل تھے۔ پرواز کو صبح ساڑھے 9 بجے کے قریب بن گوریان ایئرپورٹ پہنچنا تھا۔ روانگی کے تقریباً 90 منٹ بعد، جب طیارہ اردن کی فضائی حدود میں داخل ہوا، ٹرانسپونڈر پر پہلے اسکوک کوڈ 7700 ظاہر ہوا جو عمومی ہنگامی صورتحال کی علامت ہے۔ اس کے کچھ دیر بعد کوڈ 7500 نظر آیا، جو دنیا بھر میں غیر قانونی مداخلت یا ممکنہ ہائی جیکنگ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق طیارے نے اچانک بہت تیزی سے بلندی کھوئی۔ سی این این کے مطابق دو منٹ میں تقریباً 17 ہزار 400 فٹ کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے بعد طیارے نے یو ٹرن لیا اور نچلی پرواز کرتے ہوئے سعودی فضائی حدود میں واپس چلا گیا۔ کچھ دیر کے لیے عملے سے رابطہ منقطع رہا اور طیارہ عوامی ٹریکرز سے بھی غائب ہو گیا۔ اسرائیل نے اسے سکیورٹی کا ممکنہ واقعہ سمجھ کر ردعمل دیا۔ اسرائیلی فضائیہ نے جنگی طیارے روانہ کیے، وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ہنگامی مشاورت کی، جبکہ بن گوریان ایئرپورٹ سے پروازوں کی روانگی کچھ دیر کے لیے روک دی گئی۔ طیارہ بالآخر سعودی عرب کے شہر تبوک میں پرنس سلطان بن عبدالعزیز ایئرپورٹ پر بحفاظت اتر گیا۔ مسافروں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ فلائی دبئی کے مطابق مسافروں کو لینے اور اسرائیل پہنچانے کے لیے دبئی سے ایک اور طیارہ بھیجا جائے گا۔ دونوں پائلٹس کو پرواز سے ہٹا دیا گیا ہے۔ صورتحال کی وضاحت کیسے بدلتی گئی ابتدا میں صرف ہائی جیک کوڈ سامنے تھا۔ حکام کا کہنا تھا کہ پائلٹس سے رابطہ نہیں ہو پا رہا اور صورتحال واضح نہیں۔ کچھ ابتدائی بیانات میں طیارے کے اندر "تشدد” یا "اندرونی عملے کے واقعے” کا ذکر کیا گیا، جس سے یہ گمان ہوا کہ شاید مسافروں میں کوئی ہنگامہ ہوا ہے۔ سوشل میڈیا اور کچھ مسافروں کے بیانات میں چیخوں، کاک پٹ کے قریب خون اور ایک پائلٹ کی جانب سے دوسرے پر چاقو سے حملے کی کوشش کے دعوے سامنے آئے۔ ایئرلائن یا تحقیقاتی اداروں نے ان تفصیلات کی آزادانہ تصدیق نہیں کی۔ بعد میں اسرائیلی میڈیا نے تصویر واضح کی۔ ویب سائٹ وائی نیٹ نے فلائی دبئی کے حوالے سے بتایا کہ ہنگامی سگنل پائلٹس کے درمیان لڑائی کی وجہ سے چلا، نہ کہ ہائی جیکنگ یا کیبن میں کسی حملے کی وجہ سے۔ ایئرلائن نے کاک پٹ میں پرتشدد جھگڑے کی تصدیق کی۔ سکیورٹی ذرائع نے اسرائیلی میڈیا کو بتایا کہ واقعے کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔ چینل 12 کے مطابق جھگڑے کے دوران ایک پائلٹ بے ہوش ہو گیا۔ چینل 14 نے ایک زیادہ سنسنی خیز دعویٰ بھی نشر کیا کہ ایک پائلٹ نے طیارے کو تیزی سے نیچے لانا شروع کیا اور دوسرے نے کنٹرول واپس لینے کی کوشش کی۔ فلائی دبئی یا سعودی حکام نے اس بیان کی تائید نہیں کی۔ پائلٹس کی قومیت اسرائیلی چینل 12 نے بعد میں بتایا کہ عملے میں دو پائلٹس تھے، ایک روسی اور دوسرا یوکرینی۔ یہ دعویٰ نیکسٹا، بلڈ اور یوکرینی و روسی زبان کے متعدد میڈیا اداروں نے بھی دہرایا۔ ایئرلائن نے لڑائی کی تصدیق تو کی ہے، مگر اب تک اپنے بیانات میں پائلٹس کے نام یا ان کی قومیت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ تبوک میں اترنے کے بعد دونوں کو طیارے سے اتار لیا گیا تھا۔ صحافی عامت سیگل کے مطابق حکام اس امکان کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ ایک پائلٹ نے خودکشی کے ارادے سے جان بوجھ کر طیارہ گرانے کی کوشش کی ہو۔ اس دعوے کی تاحال تصدیق نہیں ہوئی۔