نقطہ نظر ایمرجنسی: آئینی ہتھیار یا جمہوریت کی موت؟ Shakeela Fatimaاکتوبر 4, 2026013 مشاهدات آئین نے ایمرجنسی کا اختیار ضرور دیا ہے، مگر سیاسی مفاد کو ریاستی مفاد قرار دینے کا نہیں ایمرجنسی آئینی ہتھیار یا جمہوریت کی موت؟ تحریر: شکیلہ فاطمہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کچھ الفاظ ایسے ہیں جو محض آئینی اصطلاحات نہیں رہتے بلکہ اپنے ساتھ خوف سیاسی بے یقینی اور اقتدار کی کشمکش کی ایک پوری تاریخ لے کر آتے ہیں۔ ’’ایمرجنسی‘‘ بھی ایسا ہی ایک لفظ ہے آئینِ پاکستان نے ایمرجنسی کے اختیارات کسی حکومت یا سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچانے کے لیے نہیں بلکہ ریاست کو غیر معمولی حالات سے نکالنے کے لیے دیے ہیں۔ جنگ بیرونی جارحیت سنگین داخلی بدامنی یا کسی صوبے میں آئینی نظام کے ناکام ہونے کی صورت میں ریاست کے پاس غیر معمولی اقدامات کا راستہ موجود ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب غیر معمولی آئینی اختیارات استعمال کیے جائیں تو کیا ان کا مقصد واقعی ریاست کو بحران سے نکالنا ہوتا ہے یا پھر یہی اختیارات سیاسی مخالفین کو کمزور کرنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں؟ یہ سوال آج اس لیے بھی اہم ہے کہ خیبرپختونخوا میں آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے امکان پر بحث جاری ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے اس بحث کو صوبے کی امن و امان اور سکیورٹی صورتحال سے جوڑا جا رہا ہے جبکہ سیاسی حلقوں میں اسے وفاق اور صوبے کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ یہاں سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ایمرجنسی اور گورنر راج ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ آئینِ پاکستان کے باب دہم میں ہنگامی حالات سے متعلق مختلف آئینی راستے موجود ہیں۔ آرٹیکل 232 ایمرجنسی کے اعلان سے متعلق ہے آرٹیکل 233 بعض بنیادی حقوق کے نفاذ پر ہنگامی حالات کے اثرات بیان کرتا ہے جبکہ آرٹیکل 234 اس صورتِ حال سے متعلق ہے جب کسی صوبے کی حکومت آئین کے مطابق چلانا ممکن نہ رہے۔ آرٹیکل 232 ریاست کو غیر معمولی حالات میں غیر معمولی اقدامات کی اجازت دیتا ہے۔ جنگ بیرونی جارحیت یا ایسی داخلی بدامنی جس پر قابو پانا صوبائی حکومت کے لیے ممکن نہ ہو اس کے دائرے میں آ سکتی ہے۔ تاہم یہ اختیار مطلق نہیں۔ آئین نے اس کے استعمال کے لیے شرائط اور پارلیمانی نگرانی کا نظام بھی رکھا ہے۔ خصوصاً صوبے میں داخلی بدامنی کی بنیاد پر ایمرجنسی کے معاملے میں آئین صوبائی اسمبلی کی قرارداد اور پارلیمانی منظوری کے حوالے سے واضح طریقہ کار فراہم کرتا ہے۔ آرٹیکل 233 کا تعلق ہنگامی حالت کے دوران بعض بنیادی حقوق کے نفاذ پر اثرات سے ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایمرجنسی کی حساسیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے کیونکہ شہری آزادیوں اور ریاستی اختیارات کے درمیان توازن کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ آزادیٔ نقل و حرکت، اجتماعںانجمن سازی اظہارِ رائے اور جائیداد سے متعلق بعض آئینی حقوق پر ہنگامی حالات میں آئینی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ لیکن گورنر راج اس سے مختلف معاملہ ہے۔ آرٹیکل 234 اس وقت حرکت میں آتا ہے جب صدر کو اس امر کا اطمینان ہو جائے کہ کسی صوبے کی حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جا سکتی۔ ایسی صورت میں صدر اعلامیہ جاری کر سکتے ہیں اور صوبائی حکومت کے بعض یا تمام اختیارات وفاقی سطح پر استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم اس اقدام کے لیے بھی پارلیمانی منظوری لازم ہے اور آئین اس کی مدت کے حوالے سے بھی حدود مقرر کرتا ہے۔ یعنی سادہ الفاظ میں کہا جائے تو ایمرجنسی پورے ریاستی نظام کو غیر معمولی حالات سے نمٹنے کے لیے غیر معمولی آئینی اختیارات دیتی ہےںجبکہ آرٹیکل 234 کا گورنر راج براہِ راست صوبائی آئینی حکومت کے کام کرنے سے متعلق ہے۔ پاکستان کی تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ جب ریاستی بحران اور اقتدار کی سیاست ایک دوسرے میں گڈمڈ ہو جائیں تو آئینی الفاظ کے معنی بھی خطرناک حد تک بدل سکتے ہیں۔ 1958 میں ملک نے آئینی نظام کے خاتمے اور مارشل لاء کا تجربہ کیا۔ جنرل ایوب خان کے دور میں 1962 کا آئین نافذ ہوا۔ 5 جولائی 1977 کو جنرل ضیاء الحق نے منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لاء نافذ کیا اور 1973 کے آئین کو معطل کر دیا۔ پھر 12 اکتوبر 1999 کو جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اور 3 نومبر 2007 پاکستان کی آئینی تاریخ کا وہ باب ہے جس نے آئینی اختیارات کے استعمال عدلیہ کی آزادی اور شہری آزادیوں پر بڑے سوالات اٹھائے۔ جنرل پرویز مشرف نے ایمرجنسی نافذ کی آئینی نظام کو شدید دھچکا پہنچا عدلیہ کو نشانہ بنایا گیا اور میڈیا پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں۔ یہیں سے سیاست دانوں کے بے اختیار ہونے کا سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔ جب کسی ملک میں غیر معمولی آئینی اختیارات سیاسی عمل پر غالب آ جائیں تو سب سے پہلا نقصان سیاسی اداروں کو ہوتا ہے۔ پارلیمنٹ کمزور ہوتی ہےںصوبائی خودمختاری متاثر ہوتی ہے سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں پر دباؤ بڑھتا ہے اور عوامی نمائندوں کا کردار محدود ہو جاتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسے کئی مواقع آئے جب سیاسی اختلافات نے آئینی بحران کی شکل اختیار کی اور پھر اس بحران کا نقصان بالآخر جمہوری نظام کو برداشت کرنا پڑا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی گرفتاری اور پھانسی نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ اور بعد ازاں ان کی جلاوطنی اور 2007 کے ہنگامی دور کے سیاسی و عدالتی بحران یہ سب ہماری سیاسی تاریخ کے ایسے واقعات ہیں جنہیں کسی ایک واقعے یا ایک شخصیت کے کھاتے میں ڈال کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب آئینی اختیارات سیاسی طاقت کا ہتھیار بن جائیں تو پھر آئین کی روح کمزور ہونے لگتی ہے۔ آج خیبرپختونخوا کی صورتحال ایک بار پھر اسی بنیادی سوال کو ہمارے سامنے لے آئی ہے۔ دہشت گردی ایک حقیقت ہے۔ امن و امان کی خرابی کسی بھی ریاست کے لیے معمولی مسئلہ نہیں۔ اگر کسی صوبے میں شہریوں کی جان و مال خطرے میں ہو ریاستی اداروں کی رٹ متاثر ہو اور صوبائی حکومت حالات پر قابو پانے میں ناکام ہو جائے تو وفاق کا آئینی کردار ضرور پیدا ہوتا ہے۔ لیکن یہاں ایک لکیر بہت واضح ہونی چاہیے۔ دہشت گردی کے خلاف ریاستی کارروائی اور سیاسی اختلاف کے خلاف آئینی اختیارات کا استعمال دو بالکل مختلف معاملات ہیں۔ اگر ایمرجنسی واقعی عوام کی جان و مال کے تحفظ ریاستی سلامتی اور آئینی نظام کے دفاع کے لیے ضروری ہو تو اس کے استعمال کو محض سیاسی مخالفت کی بنیاد پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اگر امن و امان کی آڑ میں سیاسی مخالفین کو دبانے صوبائی حکومت کو کمزور کرنے یا عوام کے منتخب مینڈیٹ کو محدود کرنے کی کوشش کی جائے تو پھر سوال صرف ایمرجنسی کا نہیں رہتا سوال جمہوری اداروں کے تحفظ کا بن جاتا ہے۔ لیکن اس بحث کا ایک اور پہلو بھی ہے جسے نظرانداز کرنا خطرناک ہوگا اگر آج خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی بنیاد پر ایمرجنسی کی بحث ہو رہی ہے تو پھر بلوچستان کے سوال سے نظریں کیسے چرائی جا سکتی ہیں؟ وہاں دہشت گردی کے دو ہزار سے زائد واقعات ہو چکے ہیں لیکن قومی سیاسی منظرنامے میں اس شدت کے باوجود وہ سوال اور وہ آواز کیوں سنائی نہیں دیتی جس کی اس بحران کو ضرورت ہے؟ کیا بلوچستان پاکستان کا صوبہ نہیں؟ کیا وہاں کے شہریوں کی جان امن اور تحفظ کی اہمیت باقی پاکستان سے کم ہے؟ اگر خیبرپختونخوا کی بدامنی کو ایمرجنسی کے لیے دلیل بنایا جا سکتا ہے تو پھر بلوچستان کی مسلسل دہشت گردی پر بھی قومی سطح پر سنجیدہ اور یکساں معیار کے ساتھ سوال اٹھنا چاہیے۔ کسی بھی صوبے سے تعلق رکھنے والے سیاست دان اتنے انجان یا غافل نہ بنیں کہ انہیں صرف اپنے صوبے کا دکھ دکھائی دے۔ دہشت گردی کسی ایک صوبے کا مسئلہ نہیں یہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے۔ پنجابی میں کہتے ہیں ’’گھر نوں لگی اگ گواںڈھ وی سڑدی اے۔‘‘ یعنی ایک گھر میں لگنے والی آگ صرف اسی گھر تک محدود نہیں رہتی اس کی لپیٹ آس پاس کے گھروں تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ آج اگر ایمرجنسی کی بحث خیبرپختونخوا سے شروع ہوتی ہے اور باقی سیاسی قیادت خاموش رہتی ہے تو کل یہی آئینی اختیار کسی دوسرے صوبے کے دروازے پر بھی کھڑا ہو سکتا ہے۔ یہ آگ اگر ایک صوبے سے شروع ہوئی تو ممکن ہے کل کسی دوسرے صوبے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے۔ اس لیے سیاست دانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ معاملہ صرف خیبرپختونخوا کا نہیں بلوچستان کا بھی ہے،لںسندھ کا بھیںپنجاب کا بھی اور پورے پاکستان کا بھی۔ ایمرجنسی کا سیاسی استعمال کسی ایک جماعت یا ایک صوبے کو نہیں بالآخر پورے جمہوری نظام کو کمزور کر سکتا ہے۔ آئین نے ایمرجنسی کا اختیار ضرور دیا ہے لیکن آئین نے کسی حکومت کو یہ اختیار نہیں دیا کہ وہ اپنے سیاسی مفاد کو ریاستی مفاد قرار دے دے۔ جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں جمہوریت پارلیمنٹ صوبائی اسمبلیوں عدلیہ میڈیا سیاسی جماعتوں اور سب سے بڑھ کر عوام کے مینڈیٹ کے احترام کا نام ہے۔ اگر کسی بحران میں ان تمام اداروں کو کمزور کر کے بحران ختم کرنے کی کوشش کی جائے تو ممکن ہے وقتی طور پر خاموشی پیدا ہو جائے لیکن مسئلہ حل نہیں ہوتا وہ مزید گہرا ہو جاتا ہے۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ریاست کی طاقت اور جمہوریت ایک دوسرے کی مخالف نہیں۔ ایک مضبوط ریاست وہی ہوتی ہے جہاں ریاستی ادارے طاقتور ہونے کے ساتھ ساتھ آئین کے پابند بھی ہوں۔ ایمرجنسی آئین کا حصہ ہے اس لیے اسے بذاتِ خود غیر آئینی کہنا درست نہیں۔ لیکن آئینی اختیار کا استعمال بھی آئینی روح پارلیمانی نگرانی، عدالتی جانچ اور بنیادی حقوق کے احترام کے بغیر جمہوری نہیں رہتا۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ایمرجنسی آئینی ہے یا غیر آئینی۔ اصل سوال یہ ہے کہ اسے کس مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے؟ اگر مقصد ریاست کو بحران سے نکالنا ہے تو ایمرجنسی ایک آئینی اختیار ہے۔ اگر مقصد اقتدار کی کشمکش میں سیاسی مخالفین کو دبانا یا منتخب مینڈیٹ کو بے اثر کرنا ہو تو پھر یہی اختیار جمہوری نظام کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ ہمیں بار بار یہی سبق دیتی ہے کہ جمہوریت ایک دن میں کمزور نہیں ہوتی۔ کبھی غیر معمولی اختیارات کے نام پر کبھی قومی سلامتی کے نام پر اور کبھی سیاسی استحکام کے نام پر اداروں کے درمیان طاقت کا توازن آہستہ آہستہ بدلتا ہے۔ اس لیے آج جب ایمرجنسی کی بات ہو رہی ہے تو ہمیں صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ ایمرجنسی لگ سکتی ہے یا نہیں؟ ہمیں یہ بھی پوچھنا چاہیے کیا واقعی حالات اتنے غیر معمولی ہیں؟ کیا تمام آئینی راستے استعمال ہو چکے ہیں؟ کیا پارلیمنٹ کو مکمل طور پر اعتماد میں لیا جائے گا؟ کیا بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے دکھ کو ایک ہی قومی پیمانے سے دیکھا جائے گا؟ اور سب سے بڑھ کر کیا یہ قدم ریاستی اداروں کو مضبوط کرے گا یا سیاسی نظام کو مزید کمزور؟ کیونکہ ایمرجنسی کا اصل امتحان یہ نہیں کہ آئین اسے اجازت دیتا ہے یا نہیں۔ اصل امتحان یہ ہے کہ ریاست اپنے سب سے طاقتور آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے بھی آئین کی روح عوام کے مینڈیٹ اور تمام صوبوں کے برابر حقِ تحفظ کو کتنا مقدم رکھتی ہے۔ اور شاید آج پاکستان کے ہر سیاست دان کو یہ بات یاد رکھنے کی ضرورت ہے ’’آگ کسی ایک گھر کی ہو دھواں پورے محلے میں جاتا ہے۔‘‘ یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں آئین کو سمجھنے سوال اٹھانے اور یہ یقینی بنانے کا ہے کہ ریاستی اختیار کسی ایک صوبے جماعت یا حکومت کے خلاف سیاسی ہتھیار نہ بن جائے۔ کیونکہ آج اگر ایک صوبہ خاموشی سے دیکھتا رہا تو کل شاید اس کی باری ہو اور تب سوال صرف یہ نہیں ہوگا کہ ایمرجنسی کیوں لگی بلکہ یہ ہوگا کہ جب آگ لگی تھی تو باقی گھر خاموش کیوں تھے؟