پاکستان بجلی کے بلوں میں کیپسٹی پیمنٹس کا حصہ پیداواری لاگت سے بڑھ گیا News Deskاکتوبر 5, 2026021 مشاهدات کیپسٹی پیمنٹس کا بوجھ پیداواری لاگت سے بڑھ گیا، آئی پی پیز کو ادائیگیوں کی تفصیلات سامنے آگئیں پاکستان میں بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ملکی معیشت کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔ مہنگی بجلی نے عام صارف کی قوتِ خرید کو تو متاثر کیا ہی ہے، صنعت، برآمدات اور سرمایہ کاری کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اب صارفین پر فی یونٹ کیپسٹی پیمنٹس، پیداواری لاگت اور سیلز ٹیکس کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ دستاویز کے مطابق کیپسٹی پیمنٹس کا بوجھ بجلی کی پیداواری لاگت سے بھی بڑھ گیا ہے۔ گزشتہ مالی سال کے دوران صارفین نے پاور پلانٹس کو کیپسٹی پیمنٹس کی مد میں 1665 ارب روپے ادا کیے۔ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ بجلی صارفین نے جنرل سیلز ٹیکس کی مد میں 205 ارب روپے الگ سے ادا کیے۔ مجموعی طور پر صارفین کی جیب سے 2935 ارب روپے نکلے، جبکہ پیداواری لاگت 1167 ارب روپے رہی۔ سب سے زیادہ ادائیگیاں درآمدی کوئلے پر چلنے والے پاور پلانٹس کو کی گئیں، جنہیں 635 ارب روپے دیے گئے۔ درآمدی آر ایل این جی پلانٹس کو 527 ارب روپے ملے۔ نیوکلیئر پاور پلانٹس کو 469 ارب روپے جبکہ تھر کول پاور پلانٹس کو 463 ارب روپے ادا کیے گئے۔ کیپسٹی پیمنٹ کیا ہوتی ہے؟ ملک میں بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے اور لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے لیے مختلف حکومتوں نے آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے کیے تھے۔ ان معاہدوں کے تحت نجی کمپنیوں کو بجلی بنانے یا نہ بنانے سے قطع نظر ہر ماہ اربوں روپے ادا کیے جاتے ہیں۔ اسی ادائیگی کو کیپسٹی پیمنٹ کہا جاتا ہے۔ یہ رقم صارفین کے بجلی کے بلوں میں شامل ہوتی ہے۔ بجلی کی فروخت کم ہونے پر پاور پلانٹس بند بھی کر دیے جاتے ہیں، مگر ان کی ادائیگی پھر بھی بلوں کے ذریعے وصول کی جاتی رہتی ہے۔ لوگوں کے سولر سسٹم پر منتقل ہونے کے بعد نیشنل گرڈ یہ رقم باقی رہ جانے والے صارفین کے بلوں سے پوری کر رہا ہے۔ کئی ایسے پلانٹس بھی ہیں جنہیں باقاعدگی سے کیپسٹی پیمنٹ مل رہی ہے، حالانکہ وہ بجلی پیدا ہی نہیں کر رہے۔