Uncategorized اسحاق ڈار کا عباس عراقچی کو فون، ایران کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال Zohaib Eliجنوری 13, 202603 مشاهدات Table of Contents پاک ایران سفارتی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاقدوطرفہ تعلقات کے فروغ کا اعادہامریکا اور ایران کے درمیان رابطے برقرارسوئٹزرلینڈ کے ذریعے ثالثی کا کردارمذاکرات سے پیچھے نہیں ہٹے: ایران اسلام آباد / تہران:نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں ایران کی موجودہ علاقائی اور اندرونی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ پاک ایران سفارتی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق ذرائع کے مطابق وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کو ٹیلیفون کیا اور ایران میں جاری صورتحال پر پاکستان کا مؤقف اور تشویش سے آگاہ کیا۔دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاک ایران قریبی سفارتی رابطے آئندہ بھی جاری رکھے جائیں گے اور باہمی مشاورت کے ذریعے علاقائی امور پر ہم آہنگی برقرار رکھی جائے گی۔ دوطرفہ تعلقات کے فروغ کا اعادہ ٹیلیفونک گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے درمیان برادرانہ تعلقات، سفارتی روابط اور باہمی تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔اسحاق ڈار نے خطے میں امن و استحکام کے لیے مکالمے اور سفارتکاری کی اہمیت پر زور دیا۔ امریکا اور ایران کے درمیان رابطے برقرار دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ رابطے کے ذرائع مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف کے درمیان براہِ راست رابطے کھلے ہیں اور ضرورت پڑنے پر پیغامات کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے ذریعے ثالثی کا کردار ایرانی ترجمان کے مطابق روایتی ثالث سوئٹزرلینڈ کے ذریعے بھی امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے برقرار ہیں، جس کے ذریعے حساس معاملات پر بات چیت ہوتی رہتی ہے۔ مذاکرات سے پیچھے نہیں ہٹے: ایران اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ: “ایران کبھی بھی مذاکرات سے پیچھے نہیں ہٹا، امریکا کی جانب سے کچھ معاملات پر عمومی خیالات سامنے آئے ہیں، تاہم حالیہ متضاد امریکی بیانات سنجیدگی کے فقدان کو ظاہر کرتے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ ایران سفارتکاری اور بات چیت پر یقین رکھتا ہے لیکن مؤثر اور سنجیدہ مذاکرات کے لیے واضح مؤقف اور مستقل رویہ ضروری ہے۔