Uncategorized سیاسی تحریک 100 بار چلائیں مگر قومی بیانیے کے خلاف گفتگو برداشت نہیں کی جائے گی: طلال چوہدری web editorجنوری 13, 202601 مشاهدات Table of Contents پی ٹی آئی پر سنگین الزاماتوزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پر تنقیددہشت گردی کے اعداد و شمارسیف سٹی منصوبے پر سوالقومی بیانیے پر کوئی سمجھوتہ نہیںحکومت کا واضح پیغام اسلام آباد:وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی جماعتیں چاہے جتنی بار بھی احتجاج یا سیاسی تحریک چلائیں، مگر پاکستان کے قومی بیانیے، سلامتی اور ریاستی پالیسی کے خلاف کسی قسم کی گفتگو یا رویہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ پی ٹی آئی پر سنگین الزامات میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے الزام عائد کیا کہ قومی پالیسی پر ابہام پیدا کرنا پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی باقاعدہ پالیسی بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز پر غیر ذمہ دارانہ بیانات نہ صرف عوام کو گمراہ کرتے ہیں بلکہ دشمن قوتوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پر تنقید وزیرِ مملکت نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ افغانستان کو دہشت گردی کے ثبوت فراہم کرنے چاہئیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں ہونے والی دہشت گردی کے شواہد خود سب کے سامنے موجود ہیں۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ دہشت گردی کہاں سے اور کیسے ہو رہی ہے؟ دہشت گردی کے اعداد و شمار طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ سال 2025 پاکستان کی تاریخ کا وہ سال رہا ہے جس میں دہشت گردی کے واقعات کی تعداد سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی، اور ان واقعات کی بڑی تعداد خیبر پختونخوا میں پیش آئی۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے جس سے آنکھیں بند نہیں کی جا سکتیں۔ سیف سٹی منصوبے پر سوال وزیرِ مملکت نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا میں سیف سٹی منصوبہ دانستہ طور پر مکمل نہیں کیا جا رہا کیونکہ اس منصوبے کے ذریعے دہشت گردوں کی شناخت اور گرفتاری ممکن ہو سکتی ہے۔ان کے مطابق جدید ٹیکنالوجی اور نگرانی کے نظام سے خوف صرف وہی عناصر رکھتے ہیں جو جوابدہی سے بچنا چاہتے ہیں۔ قومی بیانیے پر کوئی سمجھوتہ نہیں طلال چوہدری نے سخت لہجے میں پیغام دیتے ہوئے کہا: “آپ سیاسی تحریک سو بار چلائیں، احتجاج کریں، جلسے جلوس کریں، یہ آپ کا آئینی حق ہے، لیکن پاکستان کے خلاف رویہ، قومی سلامتی اور ریاستی بیانیے پر حملہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ وزیراعلیٰ ہو یا عام سیاسی رہنما، قانون سب کے لیے برابر ہے۔” حکومت کا واضح پیغام انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ملک میں امن و امان، دہشت گردی کے خاتمے اور ریاستی اداروں کے تحفظ کے لیے کسی دباؤ میں آئے بغیر فیصلے کرے گی اور قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔