Uncategorized یوکرین مسئلے کا حل صرف مذاکرات سے ممکن ہے: اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب Zohaib Eliجنوری 13, 202606 مشاهدات Table of Contents سلامتی کونسل میں دوٹوک مؤقفسفارتی کوششوں کی حمایتیورپ میں امن و استحکام پر زورپاکستان کا اصولی مؤقفعالمی برادری کے لیے پیغام نیویارک / اسلام آباد:اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارتی عمل کو واحد مؤثر اور پائیدار راستہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ طاقت یا محاذ آرائی سے دیرپا امن ممکن نہیں۔ سلامتی کونسل میں دوٹوک مؤقف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہا کہ یوکرین کے معاملے پر پائیدار امن، علاقائی استحکام اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے مکالمے کی بالادستی ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات ہی ایسا راستہ ہیں جو تمام فریقین کے جائز تحفظات اور سلامتی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے قابلِ قبول حل کی جانب لے جا سکتے ہیں۔ سفارتی کوششوں کی حمایت عاصم افتخار نے امریکا سمیت دیگر ممالک کی جانب سے جاری سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ فریقین اس عمل سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے۔ ان کے مطابق یہ کوششیں اگر خلوصِ نیت سے جاری رہیں تو ایک منصفانہ، جامع اور دیرپا تصفیے کی بنیاد بن سکتی ہیں۔ یورپ میں امن و استحکام پر زور پاکستانی مندوب نے کہا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں یوکرین اور روس دونوں کے سلامتی مفادات کا احترام ضروری ہے تاکہ نہ صرف یوکرین بحران کا حل نکل سکے بلکہ یورپ میں طویل المدتی امن اور استحکام بھی یقینی بنایا جا سکے۔ پاکستان کا اصولی مؤقف عاصم افتخار نے واضح کیا کہ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ عالمی تنازعات کا حل بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور پرامن سفارتکاری کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جنگوں کے سب سے بڑے متاثرین عام شہری ہوتے ہیں، اس لیے انسانی پہلو کو ہر صورت مقدم رکھا جانا چاہیے۔ عالمی برادری کے لیے پیغام پاکستانی مندوب کے مطابق عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ کشیدگی میں کمی، اعتماد سازی کے اقدامات اور سفارتی رابطوں کو فروغ دے تاکہ تنازع مزید پھیلنے کے بجائے امن کی جانب بڑھ سکے۔