Uncategorized امیگرنٹ ویزا سے متعلق امریکی حکام سے رابطے میں ہیں، امید ہے پروسیسنگ جلد بحال ہوگی: ترجمان دفتر خارجہ web editorجنوری 15, 202607 مشاهدات Table of Contents ایران کی صورتحال پر پاکستان کی نظرایران پاکستان کے مفاد میںایران میں پاکستانی شہریوں کے لیے سہولتبھارتی الزامات مسترد 📍 اسلام آباد:ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان امریکی امیگرنٹ ویزا کی پروسیسنگ سے متعلق امریکی حکام سے مسلسل رابطے میں ہے اور امید ہے کہ امیگرنٹ ویزا کی معمول کی آن لائن پروسیسنگ جلد بحال ہو جائے گی۔ اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان نے کہا کہ امریکی امیگرنٹ ویزا سے متعلق عارضی تعطل امریکی امیگریشن پالیسیوں کے اندرونی جائزہ عمل کا حصہ ہے۔ ایران کی صورتحال پر پاکستان کی نظر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان ایران میں موجودہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور صورتحال کے پرامن حل کے لیے تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران میں امن و استحکام برقرار رہے گا۔ ایران پاکستان کے مفاد میں ترجمان طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ ایران پاکستان کا ہمسایہ، دوست اور برادر ملک ہے۔ پاکستان اور ایران کے عوام کے درمیان گہرے تاریخی، ثقافتی اور مذہبی روابط ہیں، جبکہ پُرامن اور مستحکم ایران پاکستان کے قومی مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں حالیہ احتجاجات معاشی مشکلات کے باعث سامنے آئے ہیں تاہم امید ہے کہ ایرانی حکومت کے اعلان کردہ معاشی امدادی اقدامات عوامی مشکلات میں کمی لائیں گے۔ ایران میں پاکستانی شہریوں کے لیے سہولت ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ایران میں مقیم پاکستانی شہریوں کی معاونت کے لیے تہران میں پاکستانی سفارتخانہ مکمل طور پر متحرک ہے۔پاکستانی سفیر اور ان کی ٹیم شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے، جبکہ ایرانی سفر کے حوالے سے جاری ٹریول ایڈوائزری پر عمل کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ بھارتی الزامات مسترد ترجمان دفتر خارجہ نے بھارتی آرمی چیف کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر دہشتگردی کے الزامات سیاسی مقاصد کے لیے گھڑی گئی من گھڑت کہانیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی قربانیاں عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہیں، جبکہ بھارت کی جانب سے ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی، ماورائے عدالت قتل اور خطے میں عدم استحکام کی مثالیں ریکارڈ پر موجود ہیں۔ ترجمان نے بھارت کو اشتعال انگیز بیانات سے باز رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت میں بڑھتا ہوا انتہاپسندانہ اور مذہبی تشدد پورے خطے کے لیے خطرہ ہے۔