Uncategorized خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف سخت فیصلے، صوبائی ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس web editorفروری 5, 202603 مشاهدات پشاور میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبائی ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزرا، کور کمانڈر پشاور، چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس، اعلیٰ سول و فوجی حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کے آغاز میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والے عام شہریوں، سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی اور ان کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ اجلاس میں صوبے میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے واقعات، امن و امان کی مجموعی صورتحال اور پائیدار امن کے قیام کے لیے جامع لائحہ عمل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ شرکا نے اس امر پر اتفاق کیا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر پالیسی کی کامیابی کے لیے تمام سیاسی جماعتوں، عوامی نمائندوں، قبائلی عمائدین، سول سوسائٹی اور وفاقی حکومت کے درمیان قریبی مشاورت اور عملی ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خاتمے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اپنے تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔ انہوں نے کہا کہ فوج، پولیس، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور دیگر سکیورٹی ادارے مکمل یکجہتی کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ اجلاس میں طویل المدتی حکمت عملی پر بھی اتفاق کیا گیا، جس کے تحت دہشت گردی کے بنیادی محرکات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور حکومت و عوام مل کر صوبے میں پائیدار امن کو یقینی بنا سکیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کو ماڈل گڈ گورننس اضلاع میں تبدیل کیا جائے گا۔ ان اضلاع میں سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ مواصلات، صحت، تعلیم، روزگار اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکج متعارف کرایا جائے گا تاکہ احساسِ محرومی کا خاتمہ کیا جا سکے۔ مزید بتایا گیا کہ جن علاقوں سے شہریوں نے عارضی طور پر نقل مکانی کی ہے، وہاں متاثرہ خاندانوں کی مکمل دیکھ بھال، بحالی اور باعزت واپسی کو یقینی بنایا جائے گا، جسے حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ صوبے میں امن و امان کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سول حکومت، انتظامیہ، پاک فوج اور دیگر سکیورٹی ادارے ایک پیج پر ہیں اور مشترکہ کوششوں سے دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ کیا جائے گا۔