نقطہ نظر لاہور بدل رہا ہے: ایک متحرک قیادت کی کہانی Shakeela Fatimaاپریل 2, 202607 مشاهدات کچھ ہفتے پہلے میں نے “قیادت جب خدمت بن جائے” کے عنوان سے ایک کالم تحریر کیا تھا۔ آج دوبارہ اسی موضوع کا حوالہ دیتے ہوئے قلم اٹھانے کی وجہ محض الفاظ نہیں بلکہ وہ عملی تبدیلی ہے جسے میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا محسوس کیا اور ایک صحافی ہونے کے ناطے اس کی تصدیق بھی کی۔ لاہور اب صرف ایک شہر نہیں رہا بلکہ ایک فعال نظام اور متحرک قیادت کی جیتی جاگتی مثال بنتا جا رہا ہے۔ گزشتہ دنوں ہونے والی شدید بارش نے ہمیشہ کی طرح خدشات کو جنم دیا۔ ماضی میں ایسی بارشوں کے بعد شہر کا ڈوب جانا ایک معمول بن چکا تھا۔ مگر اس بار منظر مختلف تھا۔ بارش تیز تھی مسلسل تھی مگر چند ہی گھنٹوں میں لاہور کی سڑکیں صاف ہو چکی تھیں۔ پانی کے فوری نکاس نے نہ صرف شہریوں کو بڑی پریشانی سے بچایا بلکہ یہ ثابت کیا کہ اس بار تیاری مکمل تھی اور نگرانی مؤثر انداز میں کی جا رہی تھی۔ یہ تبدیلی کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مربوط حکمت عملی مسلسل مانیٹرنگ اور قیادت کی ذاتی دلچسپی کا مظہر ہے۔ جب نظام میں جوابدہی ہو اور قیادت خود معاملات کو دیکھ رہی ہو تو نتائج بھی نمایاں ہوتے ہیں۔ شہر کے مختلف علاقوں کا وزٹ کرنے کے دوران ایک اور مثبت پہلو جو نمایاں نظر آیا وہ اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں کا کنٹرول میں ہونا تھا۔ اس مہنگائی کے دور میں یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ شہریوں سے بات چیت میں یہ بات سامنے آئی کہ انتظامیہ کی جانب سے قیمتوں کی نگرانی باقاعدگی سے کی جا رہی ہے جس کے اثرات براہ راست عوام تک پہنچ رہے ہیں۔ اسی طرح لاہور میں جاری ترقیاتی کام بھی اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ شہر کو بہتر بنانے کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔ سڑکوں کی بحالی نکاسی آب کے نظام میں بہتری اور صفائی کے اقدامات شہر کی مجموعی تصویر کو بدل رہے ہیں۔ بطور صحافی میرے لیے سب سے اہم وہ واقعہ تھا جس کی میں خود چشم دید گواہ ہوں۔ ایک گلی میں چند گٹر کھلے ہوئے تھے جو کسی بھی وقت کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتے تھے خاص طور پر بچوں کے لیے یہ ایک انتہائی خطرناک صورتحال تھی۔ ہم نے اس مسئلے کو نہ صرف ریکارڈ کیا بلکہ فوری طور پر ڈی سی لاہور تک پہنچایا۔ حیران کن طور پر صرف دو سے چار گھنٹوں کے اندر وہاں ایکشن لیا گیا تمام گٹر ڈھانپ دیے گئے اور ممکنہ خطرہ ٹال دیا گیا۔ یہ محض ایک کارروائی نہیں بلکہ ایک ذمہ دار نظام کی عکاسی ہے۔ اس بروقت اقدام کا کریڈٹ یقیناً ڈی سی لاہور کو جاتا ہے۔ دن رات ان کا کام کرنا، آرام کا خیال کیے بغیر عوامی مسائل کے حل کے لیے متحرک رہنا، انہیں یقیناً اس کریڈٹ کا حقدار بناتا ہے۔ یہی وہ فرق ہے جو ایک فعال قیادت اور روایتی طرز حکمرانی میں نظر آتا ہے۔ جب اوپر سے نیت واضح ہو اور نیچے تک ٹیم اسی جذبے کے ساتھ کام کرے تو نتائج خود بولتے ہیں۔ تاہم اس تمام مثبت پیش رفت کے ساتھ عوام کی ذمہ داری بھی کم نہیں ہوتی۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب سرکاری ٹیمیں کسی علاقے میں کام کے لیے پہنچتی ہیں تو بعض لوگ تعاون کی بجائے مزاحمت یا بدتمیزی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہ رویہ ترقی کے عمل میں رکاوٹ بنتا ہے۔ ہمیں بطور شہری یہ سمجھنا ہوگا کہ ترقی ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر ٹیمیں کام کرنے آئیں تو ان کے ساتھ تعاون کیا جائے، انہیں اپنا کام مکمل کرنے دیا جائے اور غیر ضروری رکاوٹیں پیدا نہ کی جائیں۔ تنقید ضرور کریں مگر مثبت انداز میں تاکہ بہتری کا عمل جاری رہ سکے۔ لاہور کی بدلتی ہوئی تصویر امید کی ایک روشن کرن ہے۔ بارش کے بعد صاف سڑکیں، کنٹرول میں قیمتیں، جاری ترقیاتی کام اور فوری ایکشن یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر قیادت متحرک ہو تو تبدیلی ممکن ہے۔ یہ شہر اب ایک نئی کہانی لکھ رہا ہے ایسی کہانی جس میں خدمت محنت اور خلوص شامل ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس رفتار کو برقرار رکھا جائے اور عوام بھی اس سفر میں اپنا مثبت کردار ادا کریں تاکہ لاہور واقعی ایک مثالی شہر بن سکے۔