نقطہ نظر "آجا تینوں اکھیاں اوڈیکدیاں”: اسلام آباد مذاکرات کے انتظار میں پاکستان کی بے چینی web editorاپریل 23, 2026022 مشاهدات "آجا تینوں اکھیاں اوڈیکدیاں” — یہ صرف ایک شعر نہیں، بلکہ اس وقت پاکستان کی سفارتی کیفیت کی مکمل عکاسی ہے۔اسلام آباد منتظر ہے، دنیا منتظر ہے، مگر مذاکرات اب تک شروع نہیں ہو سکے۔ توقع یہی تھی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی مستقل امن کی طرف لے جائے گی۔یہ امید کی جا رہی تھی کہ جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے اسلام آباد میں معاہدہ طے پا جائے گا، مگر اب صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ دنیا سانس روکے بیٹھی ہے، مگر اسلام آباد میں خاموشی ہے۔ ایران نے واضح طور پر امریکہ کے ساتھ فوری مذاکرات سے انکار کر دیا ہے۔وجہ بھی واضح ہے: امریکی دھمکیاں، بحری ناکہ بندی اور ایرانی جہازوں کے خلاف کارروائیاں۔ایسے ماحول میں اعتماد کی بحالی ایک بڑا سوال بن چکی ہے۔ پاکستان اور دیگر اسٹیک ہولڈرز مسلسل کوشش کر رہے ہیں کہ ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لایا جائے،مگر ابھی تک سفارتی کوششیں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکیں۔ دوسری جانب امریکہ کی تیاری مکمل دکھائی دیتی ہے۔امریکی وفد کی آمد کی بارہا تصدیق کی جا چکی ہے، فوجی طیارے اسلام آباد پہنچ چکے ہیں،اور اطلاعات کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس کی آمد بھی متوقع ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ایک طرف مذاکرات کی بات، دوسری جانب سخت دھمکیاں — یہ دوہرا بیانیہ اعتماد کے فقدان کو بڑھا رہا ہے۔ اسلام آباد میں سیکیورٹی کی صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ“چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی” —یہ صرف ایک محاورہ نہیں بلکہ زمینی حقیقت ہے۔ پاکستان بطور میزبان پوری طرح تیار ہے،مگر اس وقت اس کی کیفیت کچھ یوں ہے: “آجا سجناں تینوں اکھیاں اوڈیکدیاںاکھیاں اڈیکدیاں تے دل واجاں مار دا” مگر سوال یہ ہے:کیا سجن واقعی آئیں گے؟ یہ انتظار اب صرف سفارتی نہیں رہا، بلکہ عوامی مسئلہ بن چکا ہے۔ہیوی ٹرانسپورٹ کی بندش نے سپلائی چین متاثر کر دی ہے،کھانے پینے کی اشیاء کی قلت کا خدشہ بڑھ رہا ہے،اور کاروباری طبقہ شدید دباؤ کا شکار ہے۔ پاکستان کے لیے یہ لمحہ نازک بھی ہے اور فیصلہ کن بھی۔اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ ایک بڑی سفارتی کامیابی ہوگی،مگر اگر یہ تاخیر ناکامی میں بدلتی ہے تو اس کے اثرات صرف خارجہ پالیسی تک محدود نہیں رہیں گے۔ آخرکار،اسلام آباد انتظار میں ہے—مگر یہ انتظار کب ختم ہوگا، اس کا جواب ابھی کسی کے پاس نہیں۔