Uncategorized بنگلا دیش کے جنرل پاسپورٹ میں دوبارہ ‘سوائے اسرائیل’ کی عبارت شامل کرنے کا اعلان News Deskمئی 25, 2026010 مشاهدات بنگلا دیش کے جنرل پاسپورٹ میں دوبارہ ‘سوائے اسرائیل’ کی عبارت شامل کرنے کا اعلان بنگلا دیشی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ جنرل پاسپورٹ میں ایک بار پھر ‘سوائے اسرائیل’ کی عبارت شامل کی جائے گی — یہ وہی روایتی پالیسی ہے جو 2021 میں ای پاسپورٹ کے اجرا کے وقت خاموشی سے ختم کر دی گئی تھی اور جس پر ملک بھر میں سخت ردعمل سامنے آیا تھا۔ وزیر داخلہ صلاح الدین احمد نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ جنرل پاسپورٹ میں یہ شرط دوبارہ بحال کی جائے گی۔ انھوں نے واضح کیا کہ سفارتی پاسپورٹ میں یہ عمل پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے۔ وزارت داخلہ اور محکمہ امیگریشن و پاسپورٹس کے ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ فلسطین کے مسئلے پر بنگلا دیش کی دیرینہ خارجہ پالیسی، عوامی جذبات اور اخلاقی مؤقف کے مطابق کیا جا رہا ہے۔ 1971 میں آزادی کے بعد سے بنگلا دیشی پاسپورٹ پر روایتی طور پر یہ عبارت درج ہوتی تھی: ‘یہ پاسپورٹ دنیا کے تمام ممالک کے لیے کارآمد ہے، سوائے اسرائیل کے’۔ بنگلا دیش کے اسرائیل کے ساتھ کبھی سفارتی تعلقات نہیں رہے۔ تاہم 2021 میں عوامی لیگ حکومت نے تقریباً 4500 کروڑ ٹکا کی لاگت سے ای پاسپورٹ سروس متعارف کراتے وقت یہ عبارت حذف کر دی، جس پر حسینہ واجد حکومت کو گھریلو سطح پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ گزشتہ عبوری دور حکومت میں وزارت داخلہ نے 7 اپریل کو ایک سرکاری خط جاری کیا تھا، جس میں متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی تھی کہ یہ عبارت پاسپورٹ میں دوبارہ شامل کی جائے۔ مگر اُس وقت یہ فیصلہ سفارتی پاسپورٹس سے آگے مکمل طور پر نافذ نہ ہو سکا تھا۔ اسی کے ساتھ حکام نے بتایا کہ پاسپورٹ کے واٹر مارک ڈیزائن میں بھی نمایاں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔ نئے ڈیزائن میں بازو پھیلائے ابو سعید کی تصویر شامل ہوگی، جو جولائی 2024 کی عوامی تحریک کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ دوسری جانب شیخ مجیب الرحمان کا مزار اور مجیب نگر یادگار جیسی تصاویر پاسپورٹ سے ہٹا دی جائیں گی۔ یہ اقدام بنگلا دیش کی موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی میں ایک واضح تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، جو فلسطین کے حق میں بنگلا دیش کے تاریخی مؤقف کو ایک بار پھر سرکاری دستاویزات میں جگہ دے رہی ہے۔