اہم ترین گائے کے گوشت کے روزانہ استعمال سے بلڈ شوگر یا ذیابیطس کا خطرہ نہیں بڑھتا، نئی تحقیق News Deskمئی 25, 202608 مشاهدات گائے کے گوشت کے روزانہ استعمال سے بلڈ شوگر یا ذیابیطس کا خطرہ نہیں بڑھتا، نئی تحقی امریکا کی انڈیانا یونیورسٹی اسکول آف پبلک ہیلتھ کی ایک نئی تحقیق نے اس عام خیال کو غلط قرار دیا ہے کہ گائے کا گوشت کھانے سے بلڈ شوگر بڑھتی ہے یا ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ بڑھتا ہے۔ تحقیق کے مطابق گائے کے گوشت کے روزانہ استعمال سے انسولین کی حساسیت، بلڈ شوگر کی سطح اور میٹابولک صحت پر کوئی خاص منفی اثر نہیں پڑتا۔ اس تحقیق میں ایک کلینیکل ٹرائل کیا گیا جس میں 18 سے 74 سال کی عمر کے 24 افراد شامل تھے۔ یہ تمام افراد زیادہ وزن یا موٹاپے کے ساتھ ساتھ ہائی بلڈ شوگر کا سامنا کر رہے تھے، تاہم دیگر لحاظ سے صحت مند تھے۔ ٹرائل کو دو مراحل میں تقسیم کیا گیا، ہر مرحلہ 28 دن کا تھا۔ پہلے مرحلے میں شرکاء کو روزانہ دو وقت کھانا دیا گیا جس میں گائے یا مرغی کا گوشت شامل تھا — مقدار تقریباً 100 گرام یومیہ رکھی گئی۔ دوسرے مرحلے میں انہیں گوشت سے مکمل پرہیز کرایا گیا۔ دونوں مراحل کے دوران انسولین کی حساسیت، بلڈ شوگر اور ورم سے متعلق عوامل کا جائزہ لیا جاتا رہا۔ نتائج میں سامنے آیا کہ گائے کے گوشت کے استعمال سے میٹابولک صحت پر کوئی قابل ذکر فرق نہیں پڑا۔ محققین نے بتایا کہ گائے اور مرغی کے گوشت سے ہائی بلڈ شوگر کے مریضوں پر مرتب ہونے والے اثرات لگ بھگ یکساں رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گائے کا گوشت نہ تو ورم بڑھانے والے عناصر کو تحریک دیتا ہے اور نہ ہی میٹابولک نظام کو کسی منفی سمت لے جاتا ہے۔ محققین نے یہ بھی تسلیم کیا کہ تحقیق کا دورانیہ محدود تھا، تاہم ان کے مطابق غذا کے میٹابولک اثرات اس مدت میں بھی واضح ہو جاتے ہیں۔ تحقیق کے نتائج جرنل کرنٹ ڈویلپمنٹ ان نیوٹریشن میں شائع ہوئے ہیں۔ ذیابیطس ٹائپ 2 ایسی بیماری ہے جس میں لبلبہ مناسب مقدار میں انسولین نہیں بنا پاتا یا جسم اسے درست طریقے سے استعمال نہیں کر پاتا۔ اس کے نتیجے میں بلڈ شوگر خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے اور طویل عرصے میں امراضِ قلب، بینائی کی کمزوری اور اعصابی نقصان جیسی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس نئی تحقیق سے ذیابیطس کے مریضوں اور ہائی بلڈ شوگر کا سامنا کرنے والوں کو غذائی انتخاب میں مزید آسانی مل سکتی ہے، تاہم ماہرین کا مشورہ ہمیشہ لینا ضروری ہے۔