دہشتگردوں کو کوئی زمین نہیں ملے گی — پاکستان اور چین کا متحدہ اعلان

پاکستان اور چین کا دہشتگردوں کے خلاف دوٹوک مؤقف، وزیراعظم کے دورے پر مشترکہ اعلامیہ جاری

وزیراعظم شہباز شریف کے چار روزہ سرکاری دورہ چین کے اختتام پر پاکستان اور چین نے ایک جامع مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے۔ اس اعلامیے میں دہشتگردی، علاقائی سلامتی، اقتصادی شراکت داری اور دفاعی تعاون سمیت کئی اہم موضوعات پر دونوں ممالک کا مشترکہ مؤقف سامنے آیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے 23 سے 26 مئی 2026 تک چین کا دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی چیانگ سے ملاقاتیں کیں۔ دورے کے موقع پر پاک چین سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کی تقریبات بھی منعقد ہوئیں۔

مشترکہ اعلامیے میں دہشتگردی کے خلاف انتہائی واضح مؤقف اختیار کیا گیا۔ کہا گیا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ یا کسی بھی دوسرے گروہ کو کوئی سرزمین استعمال کرکے علاقائی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دہشتگردی کے خلاف دوہرے معیار کی بھی دونوں ممالک نے مل کر مخالفت کی۔

اقتصادی محاذ پر سی پیک 2.0 کو اعلیٰ معیار کے ساتھ آگے بڑھانے اور گوادر بندرگاہ کو علاقائی رابطے کا مرکز بنانے پر اتفاق ہوا۔ قراقرم ہائی وے کا تھاکوٹ تا رائیکوٹ منصوبہ مرحلہ وار مکمل کرنے اور خنجراب پاس کے ذریعے زمینی رابطہ مزید مستحکم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ ٹیکسٹائل، ہوم اپلائنسز، معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں صنعتی تعاون کو وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

ٹیکنالوجی کے میدان میں دونوں ممالک نے مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت اور جدید ٹیکنالوجی میں اشتراک بڑھانے کا عزم ظاہر کیا۔ چین نے 2026 سے 2029 تک پاکستان کے لیے تین ہزار تربیتی مواقع فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ دو پاکستانی خلابازوں کی چین میں تربیت پر بھی اتفاق ہوا — یہ خلاباز چین کے خلائی اسٹیشن پر جانے والے پہلے غیر ملکی خلاباز بن سکتے ہیں، جو پاکستان کے لیے ایک تاریخی موقع ہوگا۔

سفارتی سطح پر پاکستان نے ون چائنا پالیسی پر اپنی مکمل حمایت دہرائی اور تائیوان کے معاملے پر چین کے ساتھ کھڑے رہنے کا اعادہ کیا۔ چین نے پاکستان کی خودمختاری اور سلامتی کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اظہار کیا اور شنگھائی تعاون تنظیم کی آئندہ پاکستانی صدارت کی بھی تائید کی۔ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے لیے پاکستان کی کوششوں کو بھی چین نے سراہا۔

دونوں ممالک نے اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کی حمایت کا اعادہ کیا اور جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و استحکام کی ضرورت پر زور دیا۔ افغانستان کے معاملے پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر بھی اتفاق ہوا۔

Related posts

جوائنٹ اپوزیشن کی پہلی باضابطہ بیٹھک، قومی معاملات پر مشاورت جاری رکھنے کا فیصلہ

قریشی موڑ اور بائی پاس کے قریب فائرنگ، پولیس کا سرچ آپریشن شروع

دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر عوامی اجتماعات پر پابندی، شادی کی تقریبات اور عبادت گاہیں مستثنیٰ