جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے بعد تہران نے امریکا سے مذاکرات پر نظرثانی کا اعلان کر دیا

حملوں کے بعد امریکا سے مذاکرات کا ازسرنو جائزہ لے رہے ہیں، ایران کا اعلان

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل بار بار جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کر رہے ہیں، اور ان حملوں کے بعد تہران واشنگٹن کے ساتھ جاری مذاکرات کے عمل کا ازسرنو جائزہ لے رہا ہے۔

بقائی نے اپنے بیان میں کہا کہ مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے پرسکون ماحول ناگزیر ہے، مگر بدقسمتی سے واشنگٹن کے متضاد بیانات اور جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں اس امن عمل کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران مذاکرات کا راستہ بند نہیں کر رہا، لیکن موجودہ صورتحال میں آگے بڑھنا ممکن نہیں۔

دوسری جانب تہران میں خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ گزشتہ رات ایران نے دشمن کو اپنی طاقت کا بھرپور پیغام دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران مکمل حوصلے، اعتماد اور سکون کے ساتھ ہر چیلنج کا سامنا کرنے کو تیار ہے، اور اپنی سرزمین پر کسی بھی جارحیت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

صدر پزشکیان نے خبردار کیا کہ جو لوگ ایران کو مٹانے کے خواب دیکھ رہے ہیں، وہ یہ خواب ہی دیکھتے رہ جائیں گے — ایران کبھی سرنڈر نہیں کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ رہبرِ انقلاب نے تنازعے کے حل کے لیے مذاکرات کی ہدایت دی ہے، اس لیے داخلی اتحاد اور قومی یکجہتی کو برقرار رکھنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات ایک نازک مرحلے سے گزر رہے ہیں، اور تازہ فوجی کشیدگی نے ان مذاکرات کے مستقبل کو مزید غیریقینی بنا دیا ہے۔

Related posts

ہائی جیکنگ کا الارم کاک پٹ میں دونوں پائلٹس کے درمیان لڑائی کا نتیجہ نکلا

ایران کو سات روزہ اعتماد سازی منصوبے پر امریکی ردعمل موصول

طیارے میں تقریباً 180 اسرائیلی مسافر سوار تھے