خود مختار اے آئی ایجنٹس کی نگرانی کے لیے عالمی ادارے کا نیا اقدام سامنے آ گیا۔

خود مختار آرٹیفیشل انٹیلیجنس سسٹمز کو جوابدہ اور محفوظ بنانے کے لیے فوکس گروپ کے قیام کا اعلان

اقوامِ متحدہ کی ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کی ایجنسی، انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین نے خود مختار آرٹیفیشل انٹیلیجنس سسٹمز کو جوابدہ اور محفوظ بنانے کے لیے ایک نئے بین الاقوامی فوکس گروپ کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اعلان جنیوا میں منعقدہ اے آئی فار گڈ گلوبل سمٹ کے دوران سامنے آیا۔

یہ اقدام ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب اے آئی ایجنٹس تیزی سے وہ حساس کام سنبھال رہے ہیں جو اب تک صرف انسانوں سے منسوب سمجھے جاتے تھے۔ نئے اے آئی ایجنٹس ماضی کے روایتی جنریٹو اے آئی ٹولز سے مختلف ہیں، کیونکہ یہ محض صارف کے حکم پر جواب دینے کے بجائے خود مختار ہو کر کام مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ روزمرہ کی شیڈولنگ اور خریداری سے لے کر کمپنیوں کے پیچیدہ کاروباری معاملات تک، یہ ایجنٹس کئی سطحوں پر انسانی مداخلت کے بغیر فیصلے کر سکتے ہیں۔

یہی خود مختاری عالمی ادارے کے لیے سب سے بڑی تشویش بن چکی ہے۔ انسان کی براہِ راست موجودگی کے بغیر کام کرنے والے یہ سسٹمز کسی دوسرے شخص یا ادارے کا روپ دھار سکتے ہیں، جبکہ مالیاتی لین دین یا اہم انفراسٹرکچر جیسے حساس شعبوں میں غیر مجاز یا غلط فیصلے کرنے کا خدشہ بھی موجود ہے۔

اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے قائم کیا گیا نیا فوکس گروپ دنیا بھر سے تکنیکی، قانونی اور پالیسی ساز ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرے گا۔ گروپ کا بنیادی مقصد ایسے بین الاقوامی طریقہ کار وضع کرنا ہے جن کے ذریعے خود مختار سسٹمز کی شناخت برقرار رکھی جا سکے اور ان کے کام کرنے کے انداز کو قابلِ بھروسہ بنایا جائے۔ سب سے بڑھ کر مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ آخری فیصلہ ہمیشہ انسان کے ہاتھ میں رہے۔

گروپ کی شریک چیئر ڈیبورا کمپرین کا کہنا ہے کہ یہ ایجنٹس بہت جلد انسانوں کی نیابت کرتے ہوئے کاروباری مذاکرات، مالی لین دین اور بڑے فیصلے کرنے جا رہے ہیں۔ ان کے بقول ایک مشترکہ بین الاقوامی فہم کا ہونا لازمی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ ایجنٹس کون ہیں اور ان پر کس حد تک بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔

Related posts

اے آئی مائیکرو ڈرون مچھروں کا تعاقب کرکے انہیں فضا میں ہی نشانہ بنائے گا

یورپی یونین کی تحقیقات میں میٹا کے فیچرز صارفین کی ذہنی صحت کے لیے خطرہ قرار

فیس بک کا نیا اے آئی سرچ فیچر صارفین کی پرائیویسی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے