دنیا شہید ایرانی رہبر کو ان کے آبائی شہر مشہد میں دائمی آرام گاہ کے سپرد کر دیا گیا۔ News Deskجولائی 10, 202605 مشاهدات شہید ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای روضہ امام رضا کے احاطے میں سپردِ خاک ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو جمعرات کی شام مشہد میں روضہ حضرت امام رضا کے احاطے میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق نمازِ جنازہ سینئر عالم دین آیت اللہ حسین نوری ہمدانی نے پڑھائی، جن کی عمر 101 برس ہے۔ مشہد کی سڑکوں پر انسانوں کا سمندر امڈ آیا اور لاکھوں افراد نے اپنے رہبر کو الوداع کہا۔ گورنر مشہد حسن حسینی نے سرکاری ٹیلی ویژن پر بتایا کہ تدفین میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد افراد کی شرکت متوقع تھی۔ شدید گرمی کے باعث انتظامیہ نے سوگواروں کو ٹھنڈک پہنچانے کے لیے واٹر اسپرینکلرز کا انتظام کیا۔ شہید رہبر کا جسدِ خاکی طیارے کے ذریعے عراق سے مشہد پہنچایا گیا، جسے ایرانی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے راستے میں حصار میں لیا۔ ان کے ہمراہ اُن کی نواسی، داماد، بیٹی اور مجتبیٰ خامنہ ای کی اہلیہ زہرا حداد عادل کی میتیں بھی تھیں، جو 28 فروری کو ہونے والے امریکی اسرائیلی حملے میں جاں بحق ہوئے تھے۔ تدفین اور جنازے کی چھ روزہ تقریبات تہران، قم، نجف، کربلا اور مشہد میں منعقد ہوئیں۔ ایران کی سیاسی و عسکری قیادت کے علاوہ دنیا بھر سے وفود نے ان تقریبات میں شرکت کی۔ کربلا میں حضرت امام حسینؓ اور حضرت عباسؓ کے روضوں پر بھی جسدِ خاکی لے جایا گیا، جہاں گورنر آفس کے مطابق ستر لاکھ سے زائد سوگواران جمع ہوئے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای فروری میں امریکی اور اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہوئے تھے، جس کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر مقرر کیا گیا۔ تاہم مجتبیٰ خامنہ ای تاحال کسی عوامی تقریب میں نظر نہیں آئے، جس کے باعث ان کی صحت سے متعلق قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ ادھر تدفین کے موقع پر امریکہ اور ایران کے مابین کشیدگی میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔