معاہدے سے سعودی عرب میں یورینیم افزودگی کے دروازے کھل سکتے ہیں

امریکی صدر نے سعودی عرب کے ساتھ سول جوہری پروگرام معاہدے کی منظوری دے دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ سول جوہری پروگرام کے معاہدے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کے تحت سعودی عرب کو توانائی کے شعبے میں جدید جوہری ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

معاہدے کی میعاد 30 سال مقرر کی گئی ہے اور اس کی مالیت اربوں ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکی کمپنیوں کو سعودی عرب کے جوہری ڈھانچے کی تعمیر میں مرکزی کردار دیا جائے گا، جبکہ روس اور چین جیسے ممالک کو اس عمل سے باہر رکھا جائے گا۔

معاہدے کا ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ اگر مشترکہ امریکی سعودی مطالعہ اس بات کی توثیق کرے تو امریکی کمپنیاں سعودی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی سہولت بھی تعمیر کر سکیں گی۔ اسی وجہ سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ معاہدہ خطے میں جوہری دوڑ کا سبب بن سکتا ہے۔

امریکی توانائی کے سیکرٹری کرس رائٹ اور سعودی توانائی کے وزیر شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان اس معاہدے پر دستخط کریں گے۔ دستاویز کو "123 ایگریمنٹ” کا نام دیا گیا ہے اور اسے چند روز میں امریکی کانگریس میں پیش کیا جائے گا، جہاں اراکین کی جانب سے سخت مخالفت کا امکان ہے۔

سعودی حکام کا مؤقف ہے کہ ان کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور اسرائیل ایران کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں، جس کا ایک مقصد تہران کی جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت کو محدود کرنا بتایا جاتا ہے۔

Related posts

ہائی جیکنگ کا الارم کاک پٹ میں دونوں پائلٹس کے درمیان لڑائی کا نتیجہ نکلا

ایران کو سات روزہ اعتماد سازی منصوبے پر امریکی ردعمل موصول

طیارے میں تقریباً 180 اسرائیلی مسافر سوار تھے