وزیراعظم شہباز شریف کا اقوام متحدہ میں بھارت کو دو ٹوک پیغام، پانی روکنے کی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا

پانی روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگ سمجھی جائے گی، وزیراعظم شہباز شریف کا بھارت کو انتباہ

وزیراعظم شہباز شریف نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے پانی کے حصے کو روکنے، متاثر کرنے یا اس کا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کو جنگ کے مترادف سمجھا جائے گا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اکاسیویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کو اس بات میں کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ معطل رکھنے کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔

شہباز شریف نے بتایا کہ بھارت کے دعوے اور اقدامات اقوام متحدہ کے ماہرین اور مستقل ثالثی عدالت دونوں کی جانب سے مسترد کیے جا چکے ہیں، جس سے پاکستان کا موقف پوری طرح درست ثابت ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی کو کبھی ہتھیار نہیں بنایا جانا چاہیے کیونکہ دریا اقوام کو تقسیم کرنے کے بجائے انہیں سیراب کرنے کے لیے ہیں، اور دریائے سندھ کا نظام پورے خطے کی زندگی کی رگ ہے۔

وزیراعظم نے گزشتہ برس بھارت کے ساتھ مختصر فوجی تصادم کا بھی ذکر کیا جو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے حملے کے بعد پیش آیا تھا، جس کا الزام نئی دہلی نے بغیر کسی ثبوت کے اسلام آباد پر لگایا۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بہادر قیادت میں مسلح افواج نے درستگی اور پیشہ ورانہ انداز سے جواب دیا۔

انہوں نے مئی 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کرانے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کو ایک بار پھر سراہا اور کہا کہ اس اقدام نے لاکھوں جانیں بچائیں۔ وزیراعظم نے سوال اٹھایا کہ اگر صدر ٹرمپ بروقت مداخلت نہ کرتے تو کس قدر تباہی ہو سکتی تھی۔

انہوں نے زور دیا کہ جنوبی ایشیا کو دوبارہ اس نہج پر نہیں پہنچنا چاہیے، اور اس کے لیے مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل ضروری ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ کشمیری عوام گزشتہ آٹھ دہائیوں سے اقوام متحدہ کی جانب سے آزادانہ رائے شماری کے وعدے کی تکمیل کا انتظار کر رہے ہیں اور انہوں نے غیرقانونی قبضے، من مانی گرفتاریوں، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور جنسی تشدد جیسے مظالم برداشت کیے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان کشمیریوں کو حق خودارادیت ملنے تک انہیں مکمل سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا اور کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا۔

خطاب کے دوران وزیراعظم نے خلیجی خطے اور وسیع تر مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع پر بھی بات کی اور آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستوں پر پڑنے والے دباؤ کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے اسلام آباد مذاکرات کے ذریعے امریکہ اور ایران کو ایک میز پر لانے میں کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں جون میں دونوں ممالک کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے۔ اس ضمن میں انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی کاوشوں کو سراہا۔

انہوں نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حالیہ حملوں کی شدید مذمت کی اور سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ خطے میں دفاع، استحکام اور امن کے لیے مشترکہ عزم ہے۔

وزیراعظم نے فلسطین کے لیے پاکستان کی حمایت دہراتے ہوئے غزہ، مغربی کنارے، لبنان اور شام میں اسرائیلی جارحیت پر تشویش کا اظہار کیا اور مغربی کنارے سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کو اسرائیل کے نسل کشی کے ایجنڈے کا حصہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی آزاد فلسطینی ریاست، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، ہی واحد پائیدار حل ہے۔

دہشت گردی کو عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے شہباز شریف نے بتایا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ جانوں کی قربانی دی اور 150 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ افغان سرزمین تحریک طالبان پاکستان اور بی ایل اے جیسے گروہوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے جو پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور افغان حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان یا کسی اور ملک کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں۔

انہوں نے بھارت میں آر ایس ایس کی سرپرستی میں پھیلتی ہندوتوا سوچ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس نفرت انگیز رجحان کی دنیا میں کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔ اقوام متحدہ کے امن مشن میں پاکستانی فوجیوں کے کردار کو سراہتے ہوئے انہوں نے اسے اجتماعی سلامتی کی مضبوط ترین مثال قرار دیا۔

معیشت کے حوالے سے وزیراعظم نے بتایا کہ حکومت میکرو اکنامک استحکام بحال کر چکی ہے اور پائیدار ترقی کی جانب گامزن ہے۔ انہوں نے چین کے ساتھ سی پیک سمیت قریبی تعلقات کا ذکر کیا اور صدر شی جن پھنگ کی عالمی ترقی کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے ترقی یافتہ ممالک سے موسمیاتی تبدیلی کے لیے مالی وعدے پورے کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ پاکستان عالمی اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالنے کے باوجود اس کے نتائج بھگت رہا ہے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے کہا کہ اعتماد الفاظ سے نہیں بلکہ عمل سے بحال ہوتا ہے، اور پاکستان نے تصادم کے بجائے مکالمے، جبر کے بجائے تعاون اور جنگ کے بجائے امن کا راستہ چنا ہے۔

Related posts

ڈپٹی وزیراعلیٰ کی تقرری کا معاملہ عدالت پہنچ گیا، صوبائی حکومت کو جواب جمع کرانے کا حکم

جوائنٹ اپوزیشن کی پہلی باضابطہ بیٹھک، قومی معاملات پر مشاورت جاری رکھنے کا فیصلہ

قریشی موڑ اور بائی پاس کے قریب فائرنگ، پولیس کا سرچ آپریشن شروع