شرکاء کا عزم: داخلی استحکام کے لیے پرتشدد انتشار اور دہشت گردی سے بلاامتیاز نمٹا جائے گا

کور کمانڈرز کانفرنس: افغانستان سے دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں پاکستان کا دفاعی حق قرار

راولپنڈی میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق کانفرنس کے آغاز میں مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور وطن کے دفاع میں جان دینے والے معصوم شہریوں کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔ شرکاء نے شہداء کی بے مثال قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

فورم نے کہا کہ افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیاں پاکستان کا دفاعی حق ہیں۔ شرکاء کے مطابق بھارت کے آلہ کار کے طور پر ہونے والی دہشت گردی کے سنگین نتائج کی ذمہ داری صرف طالبان کی مخبوط الحواس قیادت پر عائد ہوتی ہے۔ کانفرنس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انٹیلی جنس بنیادوں پر جاری انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کو بھی سراہا گیا۔

شرکاء کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے زمینی کارروائیوں کے ساتھ بہتر انتظامی اور گورننس اقدامات بھی ضروری ہیں۔ ان کے مطابق گورننس کو نچلی سطح پر عوام کے قریب لانا ہوگا، جبکہ دہشت گردی کی وجوہات اور عوامل پر عوام سے مؤثر رابطہ اور بیانیے پر بھی کام کرنا پڑے گا۔ فورم نے یہ بھی کہا کہ مخصوص عناصر کی سرپرستی میں چلنے والے جرائم اور دہشت گردی کے گٹھ جوڑ کو توڑنا اور پولیس کی استعدادِ کار بڑھانا لازمی ہے۔

داخلی استحکام کو پاکستان کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے فورم نے واضح پیغام دیا کہ کسی بھی جواز کے تحت پرتشدد انتشار یا 9 مئی جیسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کو فیصلہ کن طاقت اور قانون کے ذریعے، بلاامتیاز اور بلا جھجھک نمٹایا جائے گا۔

کانفرنس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا بھرپور خیرمقدم کیا گیا۔ شرکاء نے اسے دیرینہ اسٹریٹجک تعلقات اور مشترکہ دفاعی تعاون کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا۔ سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں کی شدید مذمت کی گئی اور اس پر برہمی کا اظہار بھی کیا گیا۔ شرکاء نے سعودی عرب سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے حرمین شریفین کے تحفظ اور تقدس کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

مسئلہ کشمیر پر فورم کا مؤقف تھا کہ اسے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جائے۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ہدایت کی کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کو مزید مضبوط بنانے کا عمل جاری رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ فارمیشنز جدید ٹیکنالوجی کے حصول، تربیت اور تمام جنگی جہتوں کے انضمام کے ذریعے اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرتی رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قوم کی غیر متزلزل حمایت کے ساتھ مسلح افواج پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

Related posts

وفاقی ملازمین کی دوہری شہریت کی چھان بین جاری، تفصیلات جمع کرانے کی آخری تاریخ 9 اکتوبر مقرر

ہمارے لوگ پرامن ہیں، گولی نہیں چلنی چاہیے: بیرسٹر گوہر

پی آئی اے کا کراچی بیس کے لیے فضائی میزبانوں کی بھرتیوں کا اعلان