پاکستان کی ثالثی میں جاری امریکا اور ایران کے مذاکرات میں اہم پیش رفت کی امید ظاہر کی جا رہی ہے، جہاں سفارتی ذرائع کے مطابق ایٹمی پروگرام کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان کسی درمیانی حل تک پہنچنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق Asim Munir کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی پاکستانی وفد Tehran پہنچا، جہاں اس کا استقبال Abbas Araghchi نے کیا۔ ملاقاتوں میں امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات کے تبادلے کا عمل جاری رہا، جسے سفارتی زبان میں شٹل ڈپلومیسی کہا جاتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق مذاکرات میں سب سے بڑا اختلاف ایران کے یورینیم افزودگی پروگرام پر ہے، جہاں امریکا پانچ سے بیس سال تک افزودگی روکنے کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ ایران اس پر مکمل پابندی کے لیے تیار نہیں۔ اسی طرح ایران کے پاس موجود تقریباً 440 کلوگرام افزودہ یورینیم کے مستقبل پر بھی مختلف تجاویز زیر غور ہیں، جن میں اسے کسی تیسرے ملک منتقل کرنا یا کم سطح تک لانا شامل ہے۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب Strait of Hormuz میں کشیدگی برقرار ہے اور عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکا کی جانب سے بحری ناکہ بندی اور ایران کی جوابی دھمکیوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
پاکستانی وزیر اعظم Shehbaz Sharif بھی خطے کے اہم ممالک کے دورے پر ہیں، جن میں Saudi Arabia، Qatar اور Turkiye شامل ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ایک “دوہری حکمت عملی” ہے جس کے تحت ایک جانب ایران سے براہ راست رابطے جبکہ دوسری جانب علاقائی حمایت حاصل کی جا رہی ہے۔
امریکی صدر Donald Trump نے بھی حالیہ بیان میں عندیہ دیا ہے کہ جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس نے پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کو “مثبت اور جاری” قرار دیا ہے۔
تاہم چیلنجز بدستور موجود ہیں۔ Benjamin Netanyahu کی حکومت خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے ایک بڑا فیکٹر سمجھی جا رہی ہے، جبکہ ایران نے واضح کیا ہے کہ اگر اس پر دباؤ برقرار رہا تو وہ اپنے جوابی اقدامات میں شدت لا سکتا ہے۔
موجودہ صورتحال میں یہ مذاکرات نہ صرف امریکا اور ایران کے تعلقات بلکہ پورے خطے کے مستقبل کے لیے اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔ اگر فریقین کسی درمیانی حل پر متفق ہو جاتے ہیں تو یہ جنگ بندی کو مستحکم کرنے اور ایک بڑے تصادم کو روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
