وفاقی حکومت کے ڈھائی ہزار سے زائد افسران کی دوہری شہریت کا انکشاف، 756 افسران نے ظاہر نہیں کی
اسلام آباد: سرکاری ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کے ڈھائی ہزار سے زائد افسران دوہری شہریت رکھتے ہیں۔ ان میں 756 افسران اور ان کے اہل خانہ نے اپنی دوہری شہریت سرکاری طور پر ظاہر ہی نہیں کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پانچ لاکھ وفاقی ملازمین کی دوہری یا غیرملکی شہریت کی چھان بین کی جا رہی ہے۔ یہ کام ایف آئی اے امیگریشن کے ذریعے ہو رہا ہے، جو ملازمین کے بیرون ملک سفری دستاویزات کی جانچ کر رہی ہے۔ اب تک ساڑھے تین لاکھ سرکاری ملازمین کا ریکارڈ دیکھا جا چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق تحقیقاتی ٹیم دوہری شہریت رکھنے والے 2,400 افسران کی تفصیلات حاصل کر چکی ہے۔ بیرون ملک پاکستانی سفارتخانوں سے بھی رابطہ کیا جا رہا ہے۔
سول سرونٹ رولز 2026 کے تحت تمام سرکاری ملازمین پر لازم ہے کہ وہ اپنی دوہری یا غیرملکی شہریت ظاہر کریں۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور وفاقی اداروں نے تمام ملازمین کو حلف نامے کے ساتھ تفصیلات جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ ایف بی آر سمیت 40 وزارتوں اور ڈویژنز نے بھی دوہری شہریت رکھنے والے افسران کو ڈیکلریشن دینے کا حکم دیا ہے۔ پولیس، ایڈمنسٹریٹو سروس، سیکریٹریٹ اور آفس مینجمنٹ گروپ کے افسران سے خاص طور پر تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق اب تک 1,680 افسران اور ان کی بیویوں نے اپنی دوہری شہریت ڈکلیئر کر دی ہے۔ دوسری جانب چھان بین میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ 96 افسران اور ان کی بیویاں صرف غیرملکی شہریت رکھتی ہیں۔ بارہ سو سے زائد سرکاری افسران کی بیویوں کے پاس بھی دوہری یا غیرملکی شہریت ہے۔
حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ جو افسران 9 اکتوبر تک تفصیلات جمع نہیں کرائیں گے، ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔ دوہری شہریت چھپانے والوں کے خلاف سول سرونٹس ڈسپلن رولز 2020 کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
