بجٹ 2026-27: تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس بڑھنے کا خدشہ، اقتصادی سروے میں کیا سامنے آیا؟
پاکستان میں جمعے کے روز پیش کیے جانے والے بجٹ 2026-27 سے متعلق تنخواہ دار طبقے میں یہ خدشات پائے جاتے ہیں کہ ان کی آمدن پر مزید ٹیکس عائد کیا جا سکتا ہے یا اشیائے ضروریہ مہنگی ہونے سے ان پر اضافی بوجھ پڑے گا۔
بجٹ سے ایک روز قبل وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اقتصادی سروے پیش کیا، جس میں بتایا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث پاکستان کی اقتصادی شرح نمو ہدف سے کم رہی، جبکہ افغانستان کے ساتھ کشیدگی نے ملکی برآمدات پر بھی منفی اثر ڈالا۔
اقتصادی سروے کے مطابق رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی معیشت 11 فیصد اضافے کے ساتھ 452 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ شرح نمو ہدف سے کم رہنے کے باوجود اقتصادی استحکام برقرار رہا۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ قرضوں کا بوجھ کم ہو رہا ہے۔ جی ڈی پی کے تناسب سے قرضوں کی شرح 68.5 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ مالی سال 70 فیصد تھی۔ سروے کے مطابق پاکستان کی فی کس سالانہ آمدنی 1901 ڈالر رہی۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں 49 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 17 ارب 20 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئے، جو تقریباً تین ماہ کی درآمدات کے برابر ہیں۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ایف بی آر اور توانائی کے شعبوں میں اصلاحات سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا، جس کے نتیجے میں سٹاک مارکیٹ میں 39 ہزار نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں۔ کچھ بین الاقوامی کمپنیوں نے پاکستان میں اپنا کاروبار بند کیا، تاہم آٹو سیکٹر، آئل اینڈ گیس اور بینکاری کے شعبوں میں نئی غیر ملکی کمپنیوں نے سرمایہ کاری کی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ معیشت میں استحکام آیا ہے اور اہم معاشی اعشاریے بہتر ہوئے ہیں، تاہم معیشت ابھی تک روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں ناکام ہے۔
