واشنگٹن:
امریکا کے اعلیٰ فوجی افسر اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے انکشاف کیا ہے کہ وینزویلا میں حالیہ فوجی کارروائی “آپریشن ایبسولوٹ ریزولو” (Operation Absolute Resolve) کے تحت کی گئی، جس میں 150 سے زائد جنگی طیاروں نے حصہ لیا۔
میڈیا بریفنگ میں جنرل ڈین کین نے بتایا کہ یہ آپریشن مہینوں کی منصوبہ بندی اور مشقوں کے بعد انجام دیا گیا۔ ان کے مطابق امریکی افواج نے صبر، پیشہ ورانہ مہارت اور مکمل تیاری کے ساتھ کارروائی کی۔
جنرل کین نے کہا کہ اس مشترکہ آپریشن میں فضائی، زمینی، بحری، خلائی اور ڈرون فورسز شامل تھیں۔ کارروائی میں F-22، F-35، F-18، EA-18، E-2، B-1 بمبار طیارے اور جدید ریموٹ کنٹرول ڈرونز استعمال کیے گئے۔
ان کے مطابق امریکی فورسز رات 1 بج کر 01 منٹ (ایسٹینڈرڈ ٹائم) پر وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے کمپاؤنڈ میں داخل ہوئیں، جبکہ مقامی وقت کے مطابق یہ کارروائی 2 بج کر 01 منٹ پر کی گئی۔ گرفتاری ٹیم نے تیزی، درستگی اور نظم و ضبط کے ساتھ علاقے کو محفوظ بنایا تاکہ زمینی فورس کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔
جنرل ڈین کین نے کہا کہ مستقبل میں اس نوعیت کے مزید مشنز کی ذمہ داری دی جا سکتی ہے، اور امریکی افواج ہر وقت کسی بھی کارروائی کے لیے تیار ہیں۔
