شیخ حسینہ کو انڈیا میں تقریر کی اجازت، بنگلہ دیش کی شدید تشویش، دوطرفہ تعلقات خطرے میں پڑنے کا خدشہ

بنگلہ دیش نے انڈیا میں معزول سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کی تقریر نشر کیے جانے پر مایوسی اور شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے دونوں ممالک کے مستقبل کے تعلقات خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔

بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نئی دہلی میں ایک تقریب کے دوران شیخ حسینہ کی ریکارڈ شدہ آڈیو تقریر نشر کی گئی جو اشتعال انگیز نوعیت کی تھی اور اس طرح کے بیانات بنگلہ دیش کی جمہوریت، داخلی استحکام اور قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف بنگلہ دیش کے داخلی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہیں بلکہ انڈیا اور بنگلہ دیش کے درمیان قائم اعتماد اور دوطرفہ تعلقات کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

یہ واقعہ سنیچر کے روز نئی دہلی میں "بنگلہ دیش میں جمہوریت بچاؤ” کے عنوان سے منعقدہ ایک تقریب کے دوران پیش آیا، جہاں سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کی ریکارڈ شدہ تقریر شرکاء کو سنائی گئی۔

واضح رہے کہ شیخ حسینہ 2024 میں اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد سے انڈیا میں مقیم ہیں، جبکہ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت ان کی حوالگی کے لیے نئی دہلی سے متعدد مرتبہ باضابطہ مطالبہ کر چکی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس پیش رفت سے خطے کی سیاست میں تناؤ بڑھنے کا خدشہ ہے اور دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات ایک نازک مرحلے میں داخل ہو سکتے ہیں۔

Related posts

پاکستان آج ون ڈے کرکٹ میں ہزارویں میچ کی تاریخ رقم کرے گا

مالدیپ 4 ملکی فٹبال ٹورنامنٹ کے لیے پاکستان کا 23 رکنی اسکواڈ کا اعلان

امریکا ایران کشیدگی: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پھر چڑھ گئیں