صحت عمران خان کی صحت پر احتجاج چوتھے روز میں داخل web editorفروری 16, 202604 مشاهدات 📍 اسلام آباد سابق وزیر اعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف اور ہم خیال سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ کا احتجاج چوتھے روز میں داخل ہو گیا ہے۔ تحریک انصاف کا مطالبہ ہے کہ عمران خان کا علاج ان کے اہل خانہ کو اعتماد میں لے کر اور ان کے ذاتی معالج کی نگرانی میں کروایا جائے۔ جمعے سے شروع ہونے والے احتجاج میں دو درجن سے زائد ارکان پارلیمنٹ شریک ہیں، جنھیں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے تک محدود کر رکھا ہے۔ احتجاج میں پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر سمیت قومی اسمبلی اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف بھی موجود ہیں۔ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ ناصر عباس نے بتایا کہ وہ ذیابیطس کے مریض ہیں اور گزشتہ 24 گھنٹوں سے کچھ نہیں کھایا۔ ان کے مطابق اسلام آباد پولیس اہلکار باہر سے کھانے پینے کی اشیا اندر نہیں لانے دے رہے جبکہ پارلیمنٹ ہاؤس کے کیفے ٹیریا میں بھی سٹاف اور اشیائے خوردونوش موجود نہیں۔ پی ٹی آئی کے سینیٹر عون عباس کا کہنا تھا کہ ارکان کے پاس موجود بسکٹ وغیرہ بھی ختم ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پارلیمنٹ ہاؤس کو دونوں اطراف سے گھیر رکھا ہے اور اطراف کی سڑکیں بند کر دی گئی ہیں۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ سیکرٹریٹ کے ملازمین کے لیے ایک مخصوص دروازہ کھولا گیا ہے جہاں جامہ تلاشی کے بعد داخلے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق ملازمین کے موبائل فون بھی عارضی طور پر تحویل میں لے کر عمارت کے اندر داخلے پر واپس کیے جا رہے ہیں۔ اسی دوران اسلام آباد میں خیبر پختونخوا ہاؤس کے باہر بھی سکیورٹی سخت ہے اور وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ادھر عمران خان کی قانونی ٹیم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں القادر ٹرسٹ اور توشہ خانہ مقدمات میں دی گئی سزاؤں کے خلاف اپیلوں کی جلد سماعت کی استدعا کی گئی ہے، جس کی بنیاد عمران خان کی صحت کو بنایا گیا ہے۔